ماہ نور

شاعر

تعارف شاعری

میں تو اُن لمحات کے گرداب

میں تو اُن لمحات کے گرداب
سے ابھر ہی نہیں پاتی
کہ جن میں ہولے سے بہت
تم نے میرا نام پکارا تھا
اک خمار سا میرے دل میں اتر آیا تھا
اپنی آنکھوں میں کئی
خواب تمُ نے بھی سجا رکھے تھے
ان سجے خوابوں میں
اک ساتھ کی خواہش تھی کہیں
اس خواہش میں ہاں میرابھی بسیرا تھا
میری بے رنگ کہانی میں
جیسے دھنک سی اتر آئی تھی
میں بہت شوخ بنی
خوب ہی اترائی تھی
میری آنکھوں میں ہلکی سی
چمک اتر آئی تھی
یہ جو احساس میرے دل میں سمایا تھا
وہی احساس تو تم تک مجھے لایا تھا
وہ محبت کا حسیں راگ
دل میں پنہاں اک راز
وہ تمہاری چاہت کا ہی تو سایہ تھا
وہ چمک آنکھوں کی
وہ شوخی سمے کی
وہ سارے رنگ دھنک کے
بکھر سے گئے
تیرے میرے راستے
بدل سے گئے
یہ چاہتوں کا دوش نہ تھا
یہ تیرا میرا قصور نہ تھا
یہ فیصلہ تو نصیب میں تھا
کہ اپنا ملنا لکھا نہ تھا
کہ اپنا ملنا لکھا نہ تھا !!!!

ماہ نور