میرے چارہ گر کوئی چارہ کر
میرے کوزہ گر کوئی تو ایسا ہنر تو کر
مٹی اٹھا میری پاس سے
زرا چاہ ملا میری ذات میں
اسے دل کے چاک پہ رکھ زرا
مجھے ایسی کوئی شکل تُو دے
جو تیرے خیال کا روپ ہو
چھڑک خاک اپنے نصیب کی
کہ رہے ساتھ تیرا میرا سدا
مجھے گوندھ پیار کے آب سے
مجھے ڈھال اپنے مزاج میں
مجھے روپ ایسا تُو دے کوئی
کہ تری نظر میں سماؤں بس
میں نہ بھاؤں کبھی کسی اور کو
مجھے لمس کے اپنی یوں آنچ دے
کہ نہ ٹوٹ پائیں کبھی مورت یہ
کہتیری چاہ سے تبدیل ہو
میرا رنگ روپ میری ہر ادا
اسی روپ میں ڈھل جاۓ بس
جو تیرا گمان تیری چاہ ہو
میری منزلوں کے راستے
تیری انگلیوں کے پور ہوں
میری ذات خود میری نہ ہو
میری ذات پہ تیرا حق رہے
تیرا من جو مجھ سے پھرے کبھی
میرا تن امانتِ گور ہو
کریسنٹ (ماہ نور)