ماہ نور

شاعر

تعارف شاعری

سانحہ گل پلازہ

وہ اک آخری کال
جس میں کوئی خیریت کی خبر نہ دے
بلکہ آگ میں گھِر نے کا بتاتا ہو
جسے سن کر پیارا کوئی کہتا ہو کہ پڑھو کلمہ
اِن لرزتے ہوۓ لفظوں میں چھپی اذیت
ہر دردمند کی آنکھوں میں نمی لے آۓ
جنکی زندگی بھر کی پونجی
شعلوں کے لپَٹوں میں لمحوں میں خاک ہوئی
وہ کس سے فریاد کریں ؟؟؟
وہ جو "حکمران" کہلوا کے خوش رہتے ہیں
جو وزارت اور ایوانوں میں دھرے رہتے ہیں
وہ کیسے چین سے سو جاتے ہیں
کیا انکے کانوں میں وہ چیخیں نہیں پہنچتیں
جو ان آگ میں جھلستے ہوۓ جسموں نے
بہت اذیت میں ،کرب کیساتھ
بہت اپنوں کو پکارتے ہوۓ دی ہوں گی
جب وہ سانس لیتے ہیں
تو کیا اس میں ان جلتے انسانی چمڑے کی بو نہیں جاتی
کیا اس آگ میں جلتے بچوں کے چہروں میں
انھیں اپنے بچوں کے عکس نہیں ملتے
کیا گرتی عمارت کے باہر
ان روتی سینہ کوبی کرتی عورتوں کی آوازوں میں
انکو اپنی ماؤں بہنوں بیٹیوں کے نوحہ نہیں سنائی دیتے
یہ حکمران کیسے سو جاتے ہیں ؟؟؟
یہ کیسے اتنے سنگ دل ہو جاتے ہیں ؟؟؟
یہ کیسے خود کو سمجھاتے ہیں ؟؟؟
کیسے آخر کیسے ؟؟؟؟

ماہ نور