ماہ نور

شاعر

تعارف شاعری

سمٹ بھی جاؤں تو آکر بکھیر دیتا تھا

سمٹ بھی جاؤں تو آکر بکھیر دیتا تھا
وہ شخص جیسے ہوا کا کوئی جھونکا تھا
میرے دھیان کے سب راستے وہیں اترے
سراب جیسا حسین ، ہاں ،مگر وہ دھوکہ تھا
دل اختیار سے میرے رہا سدا باہر
یہ ہر اک بار اُسی کی صدا پہ چونکا تھا
میرے قلم سے جو نکلا ہر اک لفظ ِترا
بہت سی بار تو نوکِ قلم کو ٹوکا تھا
حسین خواب تھے آنکھوں میں آبسے چپ چاپ
جاگتی آنکھ کے خوابوں کو بہت روکا تھا

ماہ نور