مجید امجد (29 جون 1914 – 11 مئی 1974) اردو کے نمایاں شاعر اور فلسفیانہ سوچ کے حامل ادبی شخصیت ہیں۔ وہ جھنگ، پنجاب میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کی، جہاں انہوں نے عربی اور فارسی کی تعلیم بھی لی۔ بعد ازاں انہوں نے اسلامیہ کالج، لاہور سے بیچلر آف آرٹس (B.A.) کی ڈگری حاصل کی۔ مجید امجد نے زندگی بھر شاعری کو ایک فکری اور فلسفیانہ تجربے کے طور پر اپنایا، جس میں انسان، معاشرہ، وقت اور کائنات کے موضوعات کی عکاسی نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔
اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں مجید امجد نے ابتدا میں صحافت کے شعبے میں خدمات انجام دیں اور جھنگ کے ہفت روزہ اخبار عروج میں مدیر کے طور پر کام کیا۔ تاہم، ان کی شاعری کی وجہ سے کبھی کبھار تنقید کا سامنا بھی ہوا، جس کے بعد انہوں نے صحافت سے علیحدگی اختیار کی اور 1944 میں محکمہ خوراک میں انسپکٹر کے طور پر شمولیت اختیار کی۔ مختلف شہروں میں تقرریوں کے بعد وہ آخر کار ساہیوال میں اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر کے عہدے پر فائز ہوئے اور 1972 میں ریٹائر ہوئے۔
مجید امجد کی شاعری میں فلسفیانہ گہرائی، فکری وسعت اور روزمرہ زندگی کے مناظر کی باریک بین عکاسی پائی جاتی ہے۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ شبِ رفتہ 1958 میں شائع ہوا، اور بعد از مرگ ان کا پورا کلیات کلیاتِ مجید امجد مرتب ہوا۔ ان کی شاعری کلاسیکی اور جدید اسلوب کا حسین امتزاج پیش کرتی ہے اور اردو ادب میں انہیں علامہ اقبال کے بعد کے دور کے اہم شعراء میں شمار کیا جاتا ہے۔ مجید امجد آج بھی اردو ادب میں ایک حساس، فکری اور منفرد شاعر کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔