کہیں بے خیال ہو کر یوں ہی چھو لیا کسی نے
کئی خواب دیکھ ڈالے یہاں میری بے خودی نے
مرے دل میں کون ہے تو کہ ہوا جہاں اندھیرا
وہیں سو دیے جلائے ترے رخ کی چاندنی نے
کبھی اس پری کا ہے کچھ کبھی اس حسیں کی محفل
مجھے در بدر پھرایا مرے دل کی سادگی نے
ہے بھلا سا نام اس کا میں ابھی سے کیا بتاؤں
کیا بے قرار ہنس کر مجھے ایک آدمی نے
ارے مجھ پہ ناز والو یہ نیاز مندیاں کیوں
ہے یہی کرم تمہارا تو مجھے نہ دو گے جینے
مجروح سلطانپوری