کلامِ شاعر
- 01 چرا لیا ہے تم نے جو دل کو
- 02 تو نے او رنگیلے کیسا جادو کیا
- 03 چھلکائیے جام
- 04 او مرے دل کے چین
- 05 جلتے ہیں جس کے لئے تیری آنکھوں کے دیے
- 06 دست منعم مری محنت کا خریدار سہی
- 07 سکھائیں دست طلب کو ادائے بیباکی (ردیف .. ن)
- 08 وہ جس پہ تمہیں شمع سر رہ کا گماں ہے
- 09 آبلہ پا کوئی گزرا تھا جو پچھلے سن میں
- 10 جنون دل نہ صرف اتنا کہ اک گل پیرہن تک ہے
- 11 ہوں جو سارے دست و پا ہیں خوں میں نہلائے ہوئے
- 12 جس دم یہ سنا ہے صبح وطن محبوس فضائے زنداں میں
- 13 مرے پیچھے یہ تو محال ہے کہ زمانہ گرم سفر نہ ہو
- 14 دست پر خوں کو کف دست نگاراں سمجھے
- 15 مجھ سے کہا جبریل جنوں نے یہ بھی وحیٔ الٰہی ہے
- 16 بہ نام کوچۂ دل دار گل برسے کہ سنگ آئے
- 17 جلوۂ گل کا سبب دیدۂ تر ہے کہ نہیں
- 18 ادائے طول سخن کیا وہ اختیار کرے
- 19 وہ تو گیا یہ دیدۂ خوں بار دیکھیے
- 20 ڈرا کے موج و تلاطم سے ہم نشینوں کو
- 21 آخر غم جاناں کو اے دل بڑھ کر غم دوراں ہونا تھا
- 22 جو سمجھاتے بھی آ کر واعظ برہم تو کیا کرتے
- 23 آ ہی جائے گی سحر مطلع امکاں تو کھلا
- 24 دور دور مجھ سے وہ اس طرح خراماں ہے
- 25 اس باغ میں وہ سنگ کے قابل کہا نہ جائے
- 26 چمن ہے مقتل نغمہ اب اور کیا کہیے
- 27 خنجر کی طرح بوئے سمن تیز بہت ہے
- 28 ختم شور طوفاں تھا دور تھی سیاہی بھی
- 29 ڈرا کے موج و تلاطم سے ہم نشینوں کو
- 30 اہل طوفاں آؤ دل والوں کا افسانہ کہیں
- 31 کہیں بے خیال ہو کر یوں ہی چھو لیا کسی نے
- 32 آ نکل کے میداں میں دو رخی کے خانے سے
- 33 سوئے مقتل کہ پئے سیر چمن جاتے ہیں
- 34 مجھے سہل ہو گئیں منزلیں وہ ہوا کے رخ بھی بدل گئے
- 35 گو رات مری صبح کی محرم تو نہیں ہے
- 36 نگاہ ساقیٔ نامہرباں یہ کیا جانے
- 37 تقدیر کا شکوہ بے معنی جینا ہی تجھے منظور نہیں
- 38 اٹھائے جا ان کے ستم اور جئے جا
- 39 اب اہل درد یہ جینے کا اہتمام کریں
- 40 دشمن کی دوستی ہے اب اہل وطن کے ساتھ
- 41 ہمیں شعور جنوں ہے کہ جس چمن میں رہے
- 42 مجھ سے کہا جبریل جنوں نے یہ بھی وحیٔ الٰہی ہے
- 43 رہتے تھے کبھی جن کے دل میں ہم جان سے بھی پیاروں کی طرح
- 44 مسرتوں کو یہ اہل ہوس نہ کھو دیتے
- 45 شام غم کی قسم آج غمگیں ہیں ہم آ بھی جا آ بھی جا آج میرے صنم
- 46 یہ رکے رکے سے آنسو یہ دبی دبی سی آہیں
- 47 کسی نے بھی تو نہ دیکھا نگاہ بھر کے مجھے
- 48 مجھے سہل ہو گئیں منزلیں وہ ہوا کے رخ بھی بدل گئے
- 49 آہ جاں سوز کی محرومی تاثیر نہ دیکھ
- 50 اے دل مجھے ایسی جگہ لے چل جہاں کوئی نہ ہو
- 51 تجھے کیا سناؤں میں دل ربا ترے سامنے مرا حال ہے
- 52 جلا کے مشعل جاں ہم جنوں صفات چلے
- 53 ہم کو جنوں کیا سکھلاتے ہو ہم تھے پریشاں تم سے زیادہ
- 54 جب ہوا عرفاں تو غم آرام جاں بنتا گیا
- 55 یوں تو آپس میں بگڑتے ہیں خفا ہوتے ہیں
- 56 ہم ہیں متاع کوچہ و بازار کی طرح
- 57 کوئی ہم دم نہ رہا کوئی سہارا نہ رہا
- 58 ہمارے بعد اب محفل میں افسانے بیاں ہوں گے