search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
مجروح سلطانپوری
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
چرا لیا ہے تم نے جو دل کو
تو نے او رنگیلے کیسا جادو کیا
چھلکائیے جام
او مرے دل کے چین
جلتے ہیں جس کے لئے تیری آنکھوں کے دیے
دست منعم مری محنت کا خریدار سہی
سکھائیں دست طلب کو ادائے بیباکی (ردیف .. ن)
وہ جس پہ تمہیں شمع سر رہ کا گماں ہے
آبلہ پا کوئی گزرا تھا جو پچھلے سن میں
جنون دل نہ صرف اتنا کہ اک گل پیرہن تک ہے
ہوں جو سارے دست و پا ہیں خوں میں نہلائے ہوئے
جس دم یہ سنا ہے صبح وطن محبوس فضائے زنداں میں
مرے پیچھے یہ تو محال ہے کہ زمانہ گرم سفر نہ ہو
دست پر خوں کو کف دست نگاراں سمجھے
مجھ سے کہا جبریل جنوں نے یہ بھی وحیٔ الٰہی ہے
بہ نام کوچۂ دل دار گل برسے کہ سنگ آئے
جلوۂ گل کا سبب دیدۂ تر ہے کہ نہیں
ادائے طول سخن کیا وہ اختیار کرے
وہ تو گیا یہ دیدۂ خوں بار دیکھیے
ڈرا کے موج و تلاطم سے ہم نشینوں کو
آخر غم جاناں کو اے دل بڑھ کر غم دوراں ہونا تھا
جو سمجھاتے بھی آ کر واعظ برہم تو کیا کرتے
آ ہی جائے گی سحر مطلع امکاں تو کھلا
دور دور مجھ سے وہ اس طرح خراماں ہے
اس باغ میں وہ سنگ کے قابل کہا نہ جائے
چمن ہے مقتل نغمہ اب اور کیا کہیے
خنجر کی طرح بوئے سمن تیز بہت ہے
ختم شور طوفاں تھا دور تھی سیاہی بھی
ڈرا کے موج و تلاطم سے ہم نشینوں کو
اہل طوفاں آؤ دل والوں کا افسانہ کہیں
کہیں بے خیال ہو کر یوں ہی چھو لیا کسی نے
آ نکل کے میداں میں دو رخی کے خانے سے
سوئے مقتل کہ پئے سیر چمن جاتے ہیں
مجھے سہل ہو گئیں منزلیں وہ ہوا کے رخ بھی بدل گئے
گو رات مری صبح کی محرم تو نہیں ہے
نگاہ ساقیٔ نامہرباں یہ کیا جانے
تقدیر کا شکوہ بے معنی جینا ہی تجھے منظور نہیں
اٹھائے جا ان کے ستم اور جئے جا
اب اہل درد یہ جینے کا اہتمام کریں
دشمن کی دوستی ہے اب اہل وطن کے ساتھ
ہمیں شعور جنوں ہے کہ جس چمن میں رہے
مجھ سے کہا جبریل جنوں نے یہ بھی وحیٔ الٰہی ہے
رہتے تھے کبھی جن کے دل میں ہم جان سے بھی پیاروں کی طرح
مسرتوں کو یہ اہل ہوس نہ کھو دیتے
شام غم کی قسم آج غمگیں ہیں ہم آ بھی جا آ بھی جا آج میرے صنم
یہ رکے رکے سے آنسو یہ دبی دبی سی آہیں
کسی نے بھی تو نہ دیکھا نگاہ بھر کے مجھے
مجھے سہل ہو گئیں منزلیں وہ ہوا کے رخ بھی بدل گئے
آہ جاں سوز کی محرومی تاثیر نہ دیکھ
اے دل مجھے ایسی جگہ لے چل جہاں کوئی نہ ہو
تجھے کیا سناؤں میں دل ربا ترے سامنے مرا حال ہے
جلا کے مشعل جاں ہم جنوں صفات چلے
ہم کو جنوں کیا سکھلاتے ہو ہم تھے پریشاں تم سے زیادہ
جب ہوا عرفاں تو غم آرام جاں بنتا گیا
یوں تو آپس میں بگڑتے ہیں خفا ہوتے ہیں
ہم ہیں متاع کوچہ و بازار کی طرح
کوئی ہم دم نہ رہا کوئی سہارا نہ رہا
ہمارے بعد اب محفل میں افسانے بیاں ہوں گے