مجروح سلطانپوری

شاعر

تعارف شاعری

رہتے تھے کبھی جن کے دل میں ہم جان سے بھی پیاروں کی طرح

رہتے تھے کبھی جن کے دل میں ہم جان سے بھی پیاروں کی طرح
بیٹھے ہیں انہی کے کوچے میں ہم آج گنہ گاروں کی طرح
دعویٰ تھا جنہیں ہمدردی کا خود آ کے نہ پوچھا حال کبھی
محفل میں بلایا ہے ہم پہ ہنسنے کو ستم گاروں کی طرح
برسوں کے سلگتے تم من پر اشکوں کے تو چھینٹے دے نہ سکے
تپتے ہوئے دل کے زخموں پر برسے بھی تو انگاروں کی طرح
سو روپ بھرے جینے کے لیے بیٹھے ہیں ہزاروں زہر پئے
ٹھوکر نہ لگانا ہم خود ہیں گرتی ہوئی دیواروں کی طرح

مجروح سلطانپوری