تجھے کیا سناؤں میں دل ربا ترے سامنے مرا حال ہے
تری اک نگاہ کی بات ہے مری زندگی کا سوال ہے
مری ہر خوشی ترے دم سے ہے مری زندگی ترے غم سے ہے
ترے درد سے رہے بے خبر مرے دل کی کب یہ مجال ہے
ترے حسن پر ہے مری نظر مجھے صبح شام کی کیا خبر
مری شام ہے تری جستجو میری صبح تیرا خیال ہے
مرے دل جگر میں سما بھی جا رہے کیوں نظر کا بھی فاصلہ
کہ ترے بغیر تو جان جاں مجھے زندگی بھی محال ہے
مجروح سلطانپوری