منظر بھوپالی

شاعر

تعارف شاعری

تعارف

منظر بھوپالی، جن کا اصل نام سید علی رضا ہے، اردو کے معروف اور مقبول شاعر ہیں۔ آپ 29 دسمبر 1959ء کو امراوتی، مہاراشٹر (بھارت) میں ایک ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد میر عباس علی خود شاعر تھے جبکہ والدہ طاہرہ نکہت ایک معلمہ تھیں۔ بچپن میں خاندان امراوتی سے بھوپال منتقل ہو گیا، جو بعد ازاں ان کی شناخت کا حصہ بنا۔ منظر بھوپالی نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور ایم اے (MA) کی ڈگری مکمل کی۔ ادبی ماحول کی بدولت شاعری سے شغف کم عمری ہی میں پیدا ہو گیا؛ 14 برس کی عمر میں شاعری کا آغاز کیا اور 17 سال کی عمر میں پہلا مشاعرہ پڑھ کر اہلِ ادب کی توجہ حاصل کی۔

منظر بھوپالی گزشتہ تین دہائیوں سے زائد عرصے سے اردو ادب کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ ان کی شاعری میں غزل، نظم اور گیت نمایاں حیثیت رکھتے ہیں، جن میں عشق، زندگی، انسانی جذبات، سماجی اقدار اور اخلاقی موضوعات نہایت سلیقے سے سمٹ آئے ہیں۔ آپ ایک کامیاب مشاعرہ گو شاعر کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں اور ہندوستان کے علاوہ پاکستان (کراچی، 1987ء میں پہلا بین الاقوامی مشاعرہ) سمیت امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا، ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات (دبئی)، قطر، انگلینڈ، ناروے اور ملائیشیا جیسے کئی ممالک میں اپنے کلام کی بدولت عالمی شہرت حاصل کر چکے ہیں۔ ترنم، مؤثر ادائیگی اور عوامی ربط ان کی مشاعرانہ پہچان کا خاصہ ہے۔

منظر بھوپالی کے کئی شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں جن میں “یہ صدی ہماری ہے” (1991)، “زندگی” (کراچی، 1992)، “لہو رنگ موسم” (1996)، “منظر ایک بلندی پر” (2000)، “اداس کیوں ہو” (2006)، “لاوا” (2009)، “حاصل” (2012)، “تشنگی” (2013)، “تعویذ”، “بیٹیوں کے لیے” (2016) اور “سائے میں چلے آؤ” (عالمی شاعروں کا انتخاب، 2016) شامل ہیں۔ ادبی خدمات کے اعتراف میں آپ کو متعدد اعزازات سے نوازا گیا، جن میں مرزا غالب ایوارڈ (نئی دہلی)، امریکہ کے شہر لوئس وِل، کینٹکی کی اعزازی شہریت اور “Key to the City” اور بھیم رتنا ایوارڈ قابلِ ذکر ہیں۔ آج منظر بھوپالی اردو ادب میں ایک مستند، بااثر اور عوام و خواص میں یکساں مقبول شاعر کی حیثیت رکھتے ہیں۔