میراجی

شاعر

تعارف شاعری

تعارف

میرا جی اردو ادب کے اُن چند منفرد اور اثر انگیز شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے بیسویں صدی میں اردو نظم کو ایک بالکل نیا شعور، نیا لہجہ اور نئی فکری جہت عطا کی۔ ان کا اصل نام محمد ثناءُ اللہ ڈار تھا اور وہ 25 مئی 1912ء کو پیدا ہوئے۔ ابتدا میں انہوں نے ساحر تخلص اختیار کیا، مگر بعد ازاں اپنی ذاتی اور جذباتی زندگی کے ایک اہم تجربے کے باعث میرا جی کے نام سے معروف ہوئے۔ ان کی شخصیت، مزاج اور تخلیقی رویہ روایت شکن تھا، جس نے انہیں اپنے عہد کے مروجہ ادبی سانچوں سے الگ اور نمایاں مقام عطا کیا۔

میرا جی کا شمار اردو میں جدید نظم کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے نظم کو محض خارجی تجربات کے بیان کے بجائے انسانی لاشعور، داخلی کرب، نفسیاتی پیچیدگیوں اور وجودی سوالات کا آئینہ بنایا۔ ان کی شاعری میں عشق، تنہائی، محرومی، جنس، باطن کی کشمکش اور انسان کی داخلی دنیا پوری شدت کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔ وہ حلقۂ اربابِ ذوق سے وابستہ رہے اور مشرقی اساطیر، مغربی ادب، نفسیات اور جدید فکر سے گہرا اثر قبول کیا، جس نے ان کے اسلوب کو فکری وسعت اور علامتی گہرائی عطا کی۔

قیامِ پاکستان کے بعد میرا جی بمبئی میں مقیم رہے جہاں 3 نومبر 1949ء کو ان کا انتقال ہوا اور وہیں ان کی تدفین عمل میں آئی۔ اگرچہ ان کی زندگی مختصر اور مالی و جسمانی مشکلات سے بھرپور تھی، مگر ان کا تخلیقی اثر نہایت گہرا اور دیرپا ثابت ہوا۔ بعد از وفات ان کے کلام کو مرتب کیا گیا اور آج میرا جی اردو نظم کی تاریخ میں ایک ایسے شاعر کے طور پر تسلیم کیے جاتے ہیں جس نے شاعری کو محض اظہار نہیں بلکہ انسانی شعور کی دریافت بنا دیا۔ ان کا نام جدید اردو ادب میں ہمیشہ ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھے گا۔