search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
میراجی
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
سوال
زندگی ختم ہوئی
میں ڈرتا ہوں مسرت سے
لذّت شام، شبِ ہجر خدا داد نہیں
مجھ کو تینوں یکساں ہیں
ایک تضاد
ترغیب
جزو اور کل
جنگ کا انجام
تن آسانی
سہارا
اونچا مکان
الجھن کی کہانی
کئی ستارے چمک رہے ہیں
سرسراہٹ
دھوبی کا گھاٹ
رس کی انوکھی لہریں
ارتقا
شام کو راستے پر
محرومی
چل چلاؤ
سلسلۂ روز و شب
طالب علم
عدم کا خلا
میں جنسی کھیل کو صرف اک تن آسانی سمجھتا ہوں
نارسائی
جسم کے اس پار
لب جوئے بارے
رقیب
جاتری
یگانگت
بغاوت نفس
دن کے روپ میں رات کہانی
ایک تھی عورت
دور کنارا
شراب
مجھے گھر یاد آتا ہے
یعنی
کلرک کا نغمۂ محبت
سمندر کا بلاوا
ڈھب دیکھے تو ہم نے جانا دل میں دھن بھی سمائی ہے
دیدۂ اشک بار ہے اپنا
گناہوں سے نشوونما پا گیا دل
دل محو جمال ہو گیا ہے
غم کے بھروسے کیا کچھ چھوڑا کیا اب تم سے بیان کریں
جیسے ہوتی آئی ہے ویسے بسر ہو جائے گی
ہنسو تو ساتھ ہنسے گی دنیا بیٹھ اکیلے رونا ہوگا
چاند ستارے قید ہیں سارے وقت کے بندی خانے میں
زندگی ایک اذیت ہے مجھے
نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستا بھول گیا
عدم کا خلا