میر انیس

شاعر

تعارف شاعری

تعارف

میر ببر علی انیس (1802ء–1874ء) اردو مرثیے کے عظیم ترین شاعر، دبستانِ لکھنؤ کے درخشاں ستارے اور اردو ایپک شاعری کی بلند ترین آواز تھے۔ آپ کا تعلق فیض آباد کے ایک ادبی و فنکارانہ گھرانے سے تھا، جہاں شعری روایت نسل در نسل منتقل ہوتی رہی؛ آپ کے والد میر خلیق بلند پایہ شاعر تھے جبکہ دادا میر حسن مسدسِ حال و قال کے خالق اور اردو کلاسیکی ادب کے معتبر ستونوں میں شمار ہوتے تھے۔ گھر کے اس علمی و تخلیقی ماحول میں انیس کو بچپن ہی سے عربی، فارسی، منطق، بلاغت اور فنِ خطابت کی باقاعدہ تربیت ملی، ابتدائی زندگی فیض آباد میں گزری مگر عملی و ادبی میدان لکھنؤ بنا جہاں وہ آخری وقت تک مقیم رہے۔ شادی انہوں نے ایک ممتاز ادبی گھرانے میں کی، اور اگرچہ ازدواجی زندگی باوقار اور خاموش طبیعت کی حامل تھی ۔

اگرچہ انیس نے جوانی میں غزل، رباعی اور نعت و منقبت بھی لکھی اور ان کی غزلوں میں لکھنؤ کی کلاسیکی لطافت اور سوز نمایاں تھا، مگر انہوں نے غزل ترک کر کے عمر بھر مرثیہ نگاری کو اپنا میدان اس بنیاد پر بنایا کہ وہ سمجھتے تھے کہ غزل میں جذبات کی گنجائش ہے مگر مرثیے میں کردار، واقعات، تاریخ اور انسانی عظمت سب کچھ اکٹھا بیان کیا جاسکتا ہے۔ آپ خطیب بھی تھے اور مرثیہ پڑھنے کا ایسا منفرد انداز رکھتے تھے کہ مجمع پر سحر طاری ہو جاتا۔ ان کے لکھے گئے تقریباً اسّی طویل مرثیے، بے شمار سلام، نوحے اور مناقبتیں آج بھی اردو کلاسیکی شاعری کی یادگار مثالیں ہیں۔ کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ نستعلیق خطاطی میں بھی مہارت رکھتے تھے، ناقابلِ یقین حافظہ رکھتے تھے

10 دسمبر 1874ء کو لکھنؤ ہی میں ان کا انتقال ہوا اور وہیں دفن ہوئے۔ میر انیس نے مرثیے کو شاعری کی بلند ترین صنف ثابت کیا، وہ نہ صرف کربلا کے قصے کے شاعر تھے بلکہ انسانیت، شجاعت، اخلاق، وفا اور معاشرتی اقدار کے شاعر تھے—اور اسی لیے آج بھی اردو ادب میں ان کا نام آبِ زرّ سے لکھا جاتا ہے۔