ہے وصل ہجر عالم تمکین و ضبط میں معشوق شوخ و عاشق دیوانہ چاہیے اس لب سے مل ہی جائے گا بوسہ کبھی تو ہاں شوق فضول و جرأت رندانہ چاہیے عاشق نقاب جلوۂ جانانہ چاہیے فانوس شمع کو پر پروانہ چاہیے
مرزا غالب