search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
مرزا غالب
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
جہاں تیرا نقش قدم دیکھتے ہیں
گھستے گھستے پاؤں میں زنجیر آدھی رہ گئی
ہوا ہے شاہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا
ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے
درد ہو دل میں تو دعا کیجے
وہ بک چکے تھے جب ہم خریدنے کے قابل ہوئے
ظلمت کدے میں میرے شب غم کا جوش ہے
زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالبؔ
ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا
ذکر میرا بہ بدی بھی اسے منظور نہیں
زمانہ سخت کم آزار ہے بہ جان اسدؔ
زخم پر چھڑکیں کہاں طفلان بے پروا نمک
ز بسکہ مشق تماشا جنوں علامت ہے
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیں
یک ذرۂ زمیں نہیں بے کار باغ کا
یاد ہے شادی میں بھی ہنگامۂ یا رب مجھے
وسعت سعی کرم دیکھ کہ سر تا سر خاک
وہ مری چین جبیں سے غم پنہاں سمجھا
وہ فراق اور وہ وصال کہاں
وہ آ کے خواب میں تسکین اضطراب تو دے
وارستہ اس سے ہیں کہ محبت ہی کیوں نہ ہو
واں اس کو ہول دل ہے تو یاں میں ہوں شرم سار
واں پہنچ کر جو غش آتا پئے ہم ہے ہم کو
اس بزم میں مجھے نہیں بنتی حیا کیے
اگ رہا ہے در و دیوار سے سبزہ غالبؔ
تو دوست کسو کا بھی ستم گر نہ ہوا تھا
تم جانو تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہو
تم اپنے شکوے کی باتیں نہ کھود کھود کے پوچھو
تیرے توسن کو صبا باندھتے ہیں
تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوق نظر ملے
تپش سے میری وقف کشمکش ہر تار بستر ہے
تغافل دوست ہوں میرا دماغ عجز عالی ہے
تا ہم کو شکایت کی بھی باقی نہ رہے جا
سرمۂ مفت نظر ہوں مری قیمت یہ ہے
سیاہی جیسے گر جائے دم تحریر کاغذ پر
ستم کش مصلحت سے ہوں کہ خوباں تجھ پہ عاشق ہیں
سیماب پشت گرمی آئینہ دے ہے ہم
شمار سبحہ مرغوب بت مشکل پسند آیا
شکوے کے نام سے بے مہر خفا ہوتا ہے
شوق ہر رنگ رقیب سر و ساماں نکلا
شبنم بہ گل لالہ نہ خالی ز ادا ہے
شب کہ وہ مجلس فروز خلوت ناموس تھا
شب کہ برق سوز دل سے زہرۂ ابر آب تھا
شب خمار شوق ساقی رستخیز اندازہ تھا
ستائش گر ہے زاہد اس قدر جس باغ رضواں کا
سراپا رہن عشق و نا گزیر الفت ہستی
سرگشتگی میں عالم ہستی سے یاس ہے
صفاۓ حیرت آئینہ ہے سامان زنگ آخر
صد جلوہ رو بہ رو ہے جو مژگاں اٹھائیے
سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں
سادگی پر اس کی مر جانے کی حسرت دل میں ہے
رخ نگار سے ہے سوز جاودانی شمع
رونے سے اور عشق میں بے باک ہو گئے
روندی ہوئی ہے کوکبۂ شہریار کی
رشک کہتا ہے کہ اس کا غیر سے اخلاص حیف
رحم کر ظالم کہ کیا بود چراغ کشتہ ہے
رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو
رہا گر کوئی تا قیامت سلامت
رفتار عمر قطع رہ اضطراب ہے
قیامت ہے کہ سن لیلیٰ کا دشت قیس میں آنا
قطرۂ مے بسکہ حیرت سے نفس پرور ہوا
قفس میں ہوں گر اچھا بھی نہ جانیں میرے شیون کو
پینس میں گزرتے ہیں جو کوچے سے وہ میرے
پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا
پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے
پھر اس انداز سے بہار آئی
پھر ہوا وقت کہ ہو بال کشا موج شراب
پئے نذر کرم تحفہ ہے شرم نا رسائی کا
پا بہ دامن ہو رہا ہوں بسکہ میں صحرا نورد
عہدے سے مدح ناز کے باہر نہ آ سکا
نکتہ چیں ہے غم دل اس کو سنائے نہ بنے
نکوہش ہے سزا فریادی بے داد دلبر کی
نوید امن ہے بیداد دوست جاں کے لیے
نشہ ہا شاداب رنگ و ساز ہا مست طرب
نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا
نقش ناز بت طناز بہ آغوش رقیب
نہیں کہ مجھ کو قیامت کا اعتقاد نہیں
نہیں ہے زخم کوئی بخیے کے در خور مرے تن میں
نفس نہ انجمن آرزو سے باہر کھینچ
نالہ جز حسن طلب اے ستم ایجاد نہیں
نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
نہ پوچھ نسخۂ مرہم جراحت دل کا
نہ لیوے گر خس جوہر طراوت سبزۂ خط سے
نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلی نہ سہی
نہ ہوگا یک بیاباں ماندگی سے ذوق کم میرا
نہ گل نغمہ ہوں نہ پردۂ ساز
مژدہ اے ذوق اسیری کہ نظر آتا ہے
مند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں غالبؔ
مجھ کو دیار غیر میں مارا وطن سے دور
مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے
مری ہستی فضاۓ حیرت آباد تمنا ہے
ملتی ہے خوئے یار سے نار التہاب میں
مہرباں ہو کے بلا لو مجھے چاہو جس وقت
مزے جہان کے اپنی نظر میں خاک نہیں
مت مردمک دیدہ میں سمجھو یہ نگاہیں
مستی بہ ذوق غفلت ساقی ہلاک ہے
مسجد کے زیر سایہ خرابات چاہیے
منظور تھی یہ شکل تجلی کو نور کی
میں انہیں چھیڑوں اور کچھ نہ کہیں
میں اور بزم مے سے یوں تشنہ کام آؤں
محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کا
مانع دشت نوردی کوئی تدبیر نہیں
لوں وام بخت خفتہ سے یک خواب خوش ولے
لو ہم مریض عشق کے بیمار دار ہیں
لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی
لرزتا ہے مرا دل زحمت مہر درخشاں پر
لب خشک در تشنگی مردگاں کا
لب عیسیٰ کی جنبش کرتی ہے گہوارہ جنبانی
لازم تھا کہ دیکھو مرا رستا کوئی دن اور
لاغر اتنا ہوں کہ گر تو بزم میں جا دے مجھے
کیونکر اس بت سے رکھوں جان عزیز
کیوں نہ ہو چشم بتاں محو تغافل کیوں نہ ہو
کیوں جل گیا نہ تاب رخ یار دیکھ کر
کیا تنگ ہم ستم زدگاں کا جہان ہے
کوئی امید بر نہیں آتی
کوئی دن گر زندگانی اور ہے
کوہ کے ہوں بار خاطر گر صدا ہو جائیے
کسی کو دے کے دل کوئی نواسنج فغاں کیوں ہو
کی وفا ہم سے تو غیر اس کو جفا کہتے ہیں
خطر ہے رشتۂ الفت رگ گردن نہ ہو جاوے
خموشیوں میں تماشا ادا نکلتی ہے
کرے ہے بادہ ترے لب سے کسب رنگ فروغ
کل کے لیے کر آج نہ خست شراب میں
کہوں جو حال تو کہتے ہو مدعا کہیے
کہتے تو ہو تم سب کہ بت غالیہ مو آئے
کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا
کبھی نیکی بھی اس کے جی میں گر آ جائے ہے مجھ سے
کب وہ سنتا ہے کہانی میری
کارگاہ ہستی میں لالہ داغ ساماں ہے
کعبہ میں جا رہا تو نہ دو طعنہ کیا کہیں
جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار
جنوں تہمت کش تسکیں نہ ہو گر شادمانی کی
جنوں کی دستگیری کس سے ہو گر ہو نہ عریانی
جو نہ نقد داغ دل کی کرے شعلہ پاسبانی
جس زخم کی ہو سکتی ہو تدبیر رفو کی
جس جا نسیم شانہ کش زلف یار ہے
جس بزم میں تو ناز سے گفتار میں آوے
جور سے باز آئے پر باز آئیں کیا
جراحت تحفہ الماس ارمغاں داغ جگر ہدیہ
جہاں تیرا نقش قدم دیکھتے ہیں
جب تک دہان زخم نہ پیدا کرے کوئی
جب بہ تقریب سفر یار نے محمل باندھا
جادۂ رہ خور کو وقت شام ہے تار شعاع
عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
عشق تاثیر سے نومید نہیں
عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی
ابن مریم ہوا کرے کوئی
حضور شاہ میں اہل سخن کی آزمائش ہے
ہوں میں بھی تماشائی نیرنگ تمنا
حسن غمزے کی کشاکش سے چھٹا میرے بعد
حسن مہ گرچہ بہ ہنگام کمال اچھا ہے
حسن بے پروا خریدار متاع جلوہ ہے
ہجوم نالہ حیرت عاجز عرض یک افغاں ہے
ہجوم غم سے یاں تک سرنگونی مجھ کو حاصل ہے
ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا
ہو گئی ہے غیر کی شیریں بیانی کارگر
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
ہوس کو ہے نشاط کار کیا کیا
حسد سے دل اگر افسردہ ہے گرم تماشا ہو
حریف مطلب مشکل نہیں فسون نیاز
ہر قدم دورئ منزل ہے نمایاں مجھ سے
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
ہم سے کھل جاؤ بوقت مے پرستی ایک دن
ہم رشک کو اپنے بھی گوارا نہیں کرتے
ہم پر جفا سے ترک وفا کا گماں نہیں
حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں
ہے وصل ہجر عالم تمکین و ضبط میں
ہے سبزہ زار ہر در و دیوار غم کدہ
ہے کس قدر ہلاک فریب وفائے گل
ہے بزم بتاں میں سخن آزردہ لبوں سے
ہے بسکہ ہر اک ان کے اشارے میں نشاں اور
ہے آرمیدگی میں نکوہش بجا مجھے
حاصل سے ہاتھ دھو بیٹھ اے آرزو خرامی
غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا کہ یوں
گلشن میں بندوبست بہ رنگ دگر ہے آج
گلشن کو تری صحبت از بس کہ خوش آئی ہے
گلہ ہے شوق کو دل میں بھی تنگئ جا کا
گھر میں تھا کیا کہ ترا غم اسے غارت کرتا
گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر
گھر ہمارا جو نہ روتے بھی تو ویراں ہوتا
گرم فریاد رکھا شکل نہالی نے مجھے
گر تجھ کو ہے یقین اجابت دعا نہ مانگ
گر نہ اندوہ شب فرقت بیاں ہو جائے گا
گر خامشی سے فائدہ اخفائے حال ہے
غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش از یک نفس
غم کھانے میں بودا دل ناکام بہت ہے
غم دنیا سے گر پائی بھی فرصت سر اٹھانے کی
غیر لیں محفل میں بوسے جام کے
گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیونکر ہو
غافل بہ وہم ناز خود آرا ہے ورنہ یاں
فریاد کی کوئی لے نہیں ہے
فارغ مجھے نہ جان کہ مانند صبح و مہر
ایک جا حرف وفا لکھا تھا سو بھی مٹ گیا
ایک ایک قطرہ کا مجھے دینا پڑا حساب
دوست غم خواری میں میری سعی فرماویں گے کیا
دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہا
دیا ہے دل اگر اس کو بشر ہے کیا کہئے
دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی
دل مرا سوز نہاں سے بے محابا جل گیا
دل لگا کر لگ گیا ان کو بھی تنہا بیٹھنا
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں
دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
دیوانگی سے دوش پہ زنار بھی نہیں
دھوتا ہوں جب میں پینے کو اس سیم تن کے پاؤں
دھمکی میں مر گیا جو نہ باب نبرد تھا
دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آ جائے ہے
دیکھ کر در پردہ گرم دامن افشانی مجھے
درد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری ہائے ہائے
درد منت کش دوا نہ ہوا
در خور قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوا
دہر میں نقش وفا وجہ تسلی نہ ہوا
دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں
چشم خوباں خامشی میں بھی نوا پرداز ہے
چاک کی خواہش اگر وحشت بہ عریانی کرے
چاہیے اچھوں کو جتنا چاہیے
بساط عجز میں تھا ایک دل یک قطرہ خوں وہ بھی
بیم رقیب سے نہیں کرتے وداع ہوش
بے اعتدالیوں سے سبک سب میں ہم ہوئے
بزم شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا
بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
برشکال گریۂ عاشق ہے دیکھا چاہیے
بلا سے ہیں جو یہ پیش نظر در و دیوار
بہت سہی غم گیتی شراب کم کیا ہے
بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
باغ پا کر خفقانی یہ ڈراتا ہے مجھے
بہ نالہ حاصل دل بستگی فراہم کر
از مہر تا بہ ذرہ دل و دل ہے آئنہ
اسدؔ ہم وہ جنوں جولاں گداۓ بے سر و پا ہیں
عرض نیاز عشق کے قابل نہیں رہا
عرض ناز شوخیٔ دنداں برائے خندہ ہے
عجب نشاط سے جلاد کے چلے ہیں ہم آگے
افسوس کہ دنداں کا کیا رزق فلک نے
آمد سیلاب طوفان صداۓ آب ہے
آمد خط سے ہوا ہے سرد جو بازار دوست
آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے
آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے
آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تک
آبرو کیا خاک اس گل کی کہ گلشن میں نہیں
آ کہ مری جان کو قرار نہیں ہے