کلامِ شاعر
- 01 جہاں تیرا نقش قدم دیکھتے ہیں
- 02 گھستے گھستے پاؤں میں زنجیر آدھی رہ گئی
- 03 ہوا ہے شاہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا
- 04 ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے
- 05 درد ہو دل میں تو دعا کیجے
- 06 وہ بک چکے تھے جب ہم خریدنے کے قابل ہوئے
- 07 ظلمت کدے میں میرے شب غم کا جوش ہے
- 08 زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالبؔ
- 09 ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا
- 10 ذکر میرا بہ بدی بھی اسے منظور نہیں
- 11 زمانہ سخت کم آزار ہے بہ جان اسدؔ
- 12 زخم پر چھڑکیں کہاں طفلان بے پروا نمک
- 13 ز بسکہ مشق تماشا جنوں علامت ہے
- 14 یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
- 15 یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیں
- 16 یک ذرۂ زمیں نہیں بے کار باغ کا
- 17 یاد ہے شادی میں بھی ہنگامۂ یا رب مجھے
- 18 وسعت سعی کرم دیکھ کہ سر تا سر خاک
- 19 وہ مری چین جبیں سے غم پنہاں سمجھا
- 20 وہ فراق اور وہ وصال کہاں
- 21 وہ آ کے خواب میں تسکین اضطراب تو دے
- 22 وارستہ اس سے ہیں کہ محبت ہی کیوں نہ ہو
- 23 واں اس کو ہول دل ہے تو یاں میں ہوں شرم سار
- 24 واں پہنچ کر جو غش آتا پئے ہم ہے ہم کو
- 25 اس بزم میں مجھے نہیں بنتی حیا کیے
- 26 اگ رہا ہے در و دیوار سے سبزہ غالبؔ
- 27 تو دوست کسو کا بھی ستم گر نہ ہوا تھا
- 28 تم جانو تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہو
- 29 تم اپنے شکوے کی باتیں نہ کھود کھود کے پوچھو
- 30 تیرے توسن کو صبا باندھتے ہیں
- 31 تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوق نظر ملے
- 32 تپش سے میری وقف کشمکش ہر تار بستر ہے
- 33 تغافل دوست ہوں میرا دماغ عجز عالی ہے
- 34 تا ہم کو شکایت کی بھی باقی نہ رہے جا
- 35 سرمۂ مفت نظر ہوں مری قیمت یہ ہے
- 36 سیاہی جیسے گر جائے دم تحریر کاغذ پر
- 37 ستم کش مصلحت سے ہوں کہ خوباں تجھ پہ عاشق ہیں
- 38 سیماب پشت گرمی آئینہ دے ہے ہم
- 39 شمار سبحہ مرغوب بت مشکل پسند آیا
- 40 شکوے کے نام سے بے مہر خفا ہوتا ہے
- 41 شوق ہر رنگ رقیب سر و ساماں نکلا
- 42 شبنم بہ گل لالہ نہ خالی ز ادا ہے
- 43 شب کہ وہ مجلس فروز خلوت ناموس تھا
- 44 شب کہ برق سوز دل سے زہرۂ ابر آب تھا
- 45 شب خمار شوق ساقی رستخیز اندازہ تھا
- 46 ستائش گر ہے زاہد اس قدر جس باغ رضواں کا
- 47 سراپا رہن عشق و نا گزیر الفت ہستی
- 48 سرگشتگی میں عالم ہستی سے یاس ہے
- 49 صفاۓ حیرت آئینہ ہے سامان زنگ آخر
- 50 صد جلوہ رو بہ رو ہے جو مژگاں اٹھائیے
- 51 سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں
- 52 سادگی پر اس کی مر جانے کی حسرت دل میں ہے
- 53 رخ نگار سے ہے سوز جاودانی شمع
- 54 رونے سے اور عشق میں بے باک ہو گئے
- 55 روندی ہوئی ہے کوکبۂ شہریار کی
- 56 رشک کہتا ہے کہ اس کا غیر سے اخلاص حیف
- 57 رحم کر ظالم کہ کیا بود چراغ کشتہ ہے
- 58 رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو
- 59 رہا گر کوئی تا قیامت سلامت
- 60 رفتار عمر قطع رہ اضطراب ہے
- 61 قیامت ہے کہ سن لیلیٰ کا دشت قیس میں آنا
- 62 قطرۂ مے بسکہ حیرت سے نفس پرور ہوا
- 63 قفس میں ہوں گر اچھا بھی نہ جانیں میرے شیون کو
- 64 پینس میں گزرتے ہیں جو کوچے سے وہ میرے
- 65 پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا
- 66 پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے
- 67 پھر اس انداز سے بہار آئی
- 68 پھر ہوا وقت کہ ہو بال کشا موج شراب
- 69 پئے نذر کرم تحفہ ہے شرم نا رسائی کا
- 70 پا بہ دامن ہو رہا ہوں بسکہ میں صحرا نورد
- 71 عہدے سے مدح ناز کے باہر نہ آ سکا
- 72 نکتہ چیں ہے غم دل اس کو سنائے نہ بنے
- 73 نکوہش ہے سزا فریادی بے داد دلبر کی
- 74 نوید امن ہے بیداد دوست جاں کے لیے
- 75 نشہ ہا شاداب رنگ و ساز ہا مست طرب
- 76 نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا
- 77 نقش ناز بت طناز بہ آغوش رقیب
- 78 نہیں کہ مجھ کو قیامت کا اعتقاد نہیں
- 79 نہیں ہے زخم کوئی بخیے کے در خور مرے تن میں
- 80 نفس نہ انجمن آرزو سے باہر کھینچ
- 81 نالہ جز حسن طلب اے ستم ایجاد نہیں
- 82 نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
- 83 نہ پوچھ نسخۂ مرہم جراحت دل کا
- 84 نہ لیوے گر خس جوہر طراوت سبزۂ خط سے
- 85 نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلی نہ سہی
- 86 نہ ہوگا یک بیاباں ماندگی سے ذوق کم میرا
- 87 نہ گل نغمہ ہوں نہ پردۂ ساز
- 88 مژدہ اے ذوق اسیری کہ نظر آتا ہے
- 89 مند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں غالبؔ
- 90 مجھ کو دیار غیر میں مارا وطن سے دور
- 91 مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے
- 92 مری ہستی فضاۓ حیرت آباد تمنا ہے
- 93 ملتی ہے خوئے یار سے نار التہاب میں
- 94 مہرباں ہو کے بلا لو مجھے چاہو جس وقت
- 95 مزے جہان کے اپنی نظر میں خاک نہیں
- 96 مت مردمک دیدہ میں سمجھو یہ نگاہیں
- 97 مستی بہ ذوق غفلت ساقی ہلاک ہے
- 98 مسجد کے زیر سایہ خرابات چاہیے
- 99 منظور تھی یہ شکل تجلی کو نور کی
- 100 میں انہیں چھیڑوں اور کچھ نہ کہیں
- 101 میں اور بزم مے سے یوں تشنہ کام آؤں
- 102 محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کا
- 103 مانع دشت نوردی کوئی تدبیر نہیں
- 104 لوں وام بخت خفتہ سے یک خواب خوش ولے
- 105 لو ہم مریض عشق کے بیمار دار ہیں
- 106 لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی
- 107 لرزتا ہے مرا دل زحمت مہر درخشاں پر
- 108 لب خشک در تشنگی مردگاں کا
- 109 لب عیسیٰ کی جنبش کرتی ہے گہوارہ جنبانی
- 110 لازم تھا کہ دیکھو مرا رستا کوئی دن اور
- 111 لاغر اتنا ہوں کہ گر تو بزم میں جا دے مجھے
- 112 کیونکر اس بت سے رکھوں جان عزیز
- 113 کیوں نہ ہو چشم بتاں محو تغافل کیوں نہ ہو
- 114 کیوں جل گیا نہ تاب رخ یار دیکھ کر
- 115 کیا تنگ ہم ستم زدگاں کا جہان ہے
- 116 کوئی امید بر نہیں آتی
- 117 کوئی دن گر زندگانی اور ہے
- 118 کوہ کے ہوں بار خاطر گر صدا ہو جائیے
- 119 کسی کو دے کے دل کوئی نواسنج فغاں کیوں ہو
- 120 کی وفا ہم سے تو غیر اس کو جفا کہتے ہیں
- 121 خطر ہے رشتۂ الفت رگ گردن نہ ہو جاوے
- 122 خموشیوں میں تماشا ادا نکلتی ہے
- 123 کرے ہے بادہ ترے لب سے کسب رنگ فروغ
- 124 کل کے لیے کر آج نہ خست شراب میں
- 125 کہوں جو حال تو کہتے ہو مدعا کہیے
- 126 کہتے تو ہو تم سب کہ بت غالیہ مو آئے
- 127 کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا
- 128 کبھی نیکی بھی اس کے جی میں گر آ جائے ہے مجھ سے
- 129 کب وہ سنتا ہے کہانی میری
- 130 کارگاہ ہستی میں لالہ داغ ساماں ہے
- 131 کعبہ میں جا رہا تو نہ دو طعنہ کیا کہیں
- 132 جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار
- 133 جنوں تہمت کش تسکیں نہ ہو گر شادمانی کی
- 134 جنوں کی دستگیری کس سے ہو گر ہو نہ عریانی
- 135 جو نہ نقد داغ دل کی کرے شعلہ پاسبانی
- 136 جس زخم کی ہو سکتی ہو تدبیر رفو کی
- 137 جس جا نسیم شانہ کش زلف یار ہے
- 138 جس بزم میں تو ناز سے گفتار میں آوے
- 139 جور سے باز آئے پر باز آئیں کیا
- 140 جراحت تحفہ الماس ارمغاں داغ جگر ہدیہ
- 141 جہاں تیرا نقش قدم دیکھتے ہیں
- 142 جب تک دہان زخم نہ پیدا کرے کوئی
- 143 جب بہ تقریب سفر یار نے محمل باندھا
- 144 جادۂ رہ خور کو وقت شام ہے تار شعاع
- 145 عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
- 146 عشق تاثیر سے نومید نہیں
- 147 عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی
- 148 ابن مریم ہوا کرے کوئی
- 149 حضور شاہ میں اہل سخن کی آزمائش ہے
- 150 ہوں میں بھی تماشائی نیرنگ تمنا
- 151 حسن غمزے کی کشاکش سے چھٹا میرے بعد
- 152 حسن مہ گرچہ بہ ہنگام کمال اچھا ہے
- 153 حسن بے پروا خریدار متاع جلوہ ہے
- 154 ہجوم نالہ حیرت عاجز عرض یک افغاں ہے
- 155 ہجوم غم سے یاں تک سرنگونی مجھ کو حاصل ہے
- 156 ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا
- 157 ہو گئی ہے غیر کی شیریں بیانی کارگر
- 158 ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
- 159 ہوس کو ہے نشاط کار کیا کیا
- 160 حسد سے دل اگر افسردہ ہے گرم تماشا ہو
- 161 حریف مطلب مشکل نہیں فسون نیاز
- 162 ہر قدم دورئ منزل ہے نمایاں مجھ سے
- 163 ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
- 164 ہم سے کھل جاؤ بوقت مے پرستی ایک دن
- 165 ہم رشک کو اپنے بھی گوارا نہیں کرتے
- 166 ہم پر جفا سے ترک وفا کا گماں نہیں
- 167 حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں
- 168 ہے وصل ہجر عالم تمکین و ضبط میں
- 169 ہے سبزہ زار ہر در و دیوار غم کدہ
- 170 ہے کس قدر ہلاک فریب وفائے گل
- 171 ہے بزم بتاں میں سخن آزردہ لبوں سے
- 172 ہے بسکہ ہر اک ان کے اشارے میں نشاں اور
- 173 ہے آرمیدگی میں نکوہش بجا مجھے
- 174 حاصل سے ہاتھ دھو بیٹھ اے آرزو خرامی
- 175 غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا کہ یوں
- 176 گلشن میں بندوبست بہ رنگ دگر ہے آج
- 177 گلشن کو تری صحبت از بس کہ خوش آئی ہے
- 178 گلہ ہے شوق کو دل میں بھی تنگئ جا کا
- 179 گھر میں تھا کیا کہ ترا غم اسے غارت کرتا
- 180 گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر
- 181 گھر ہمارا جو نہ روتے بھی تو ویراں ہوتا
- 182 گرم فریاد رکھا شکل نہالی نے مجھے
- 183 گر تجھ کو ہے یقین اجابت دعا نہ مانگ
- 184 گر نہ اندوہ شب فرقت بیاں ہو جائے گا
- 185 گر خامشی سے فائدہ اخفائے حال ہے
- 186 غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش از یک نفس
- 187 غم کھانے میں بودا دل ناکام بہت ہے
- 188 غم دنیا سے گر پائی بھی فرصت سر اٹھانے کی
- 189 غیر لیں محفل میں بوسے جام کے
- 190 گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیونکر ہو
- 191 غافل بہ وہم ناز خود آرا ہے ورنہ یاں
- 192 فریاد کی کوئی لے نہیں ہے
- 193 فارغ مجھے نہ جان کہ مانند صبح و مہر
- 194 ایک جا حرف وفا لکھا تھا سو بھی مٹ گیا
- 195 ایک ایک قطرہ کا مجھے دینا پڑا حساب
- 196 دوست غم خواری میں میری سعی فرماویں گے کیا
- 197 دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہا
- 198 دیا ہے دل اگر اس کو بشر ہے کیا کہئے
- 199 دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی
- 200 دل مرا سوز نہاں سے بے محابا جل گیا
- 201 دل لگا کر لگ گیا ان کو بھی تنہا بیٹھنا
- 202 دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں
- 203 دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
- 204 دیوانگی سے دوش پہ زنار بھی نہیں
- 205 دھوتا ہوں جب میں پینے کو اس سیم تن کے پاؤں
- 206 دھمکی میں مر گیا جو نہ باب نبرد تھا
- 207 دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آ جائے ہے
- 208 دیکھ کر در پردہ گرم دامن افشانی مجھے
- 209 درد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری ہائے ہائے
- 210 درد منت کش دوا نہ ہوا
- 211 در خور قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوا
- 212 دہر میں نقش وفا وجہ تسلی نہ ہوا
- 213 دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں
- 214 چشم خوباں خامشی میں بھی نوا پرداز ہے
- 215 چاک کی خواہش اگر وحشت بہ عریانی کرے
- 216 چاہیے اچھوں کو جتنا چاہیے
- 217 بساط عجز میں تھا ایک دل یک قطرہ خوں وہ بھی
- 218 بیم رقیب سے نہیں کرتے وداع ہوش
- 219 بے اعتدالیوں سے سبک سب میں ہم ہوئے
- 220 بزم شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا
- 221 بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
- 222 برشکال گریۂ عاشق ہے دیکھا چاہیے
- 223 بلا سے ہیں جو یہ پیش نظر در و دیوار
- 224 بہت سہی غم گیتی شراب کم کیا ہے
- 225 بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
- 226 باغ پا کر خفقانی یہ ڈراتا ہے مجھے
- 227 بہ نالہ حاصل دل بستگی فراہم کر
- 228 از مہر تا بہ ذرہ دل و دل ہے آئنہ
- 229 اسدؔ ہم وہ جنوں جولاں گداۓ بے سر و پا ہیں
- 230 عرض نیاز عشق کے قابل نہیں رہا
- 231 عرض ناز شوخیٔ دنداں برائے خندہ ہے
- 232 عجب نشاط سے جلاد کے چلے ہیں ہم آگے
- 233 افسوس کہ دنداں کا کیا رزق فلک نے
- 234 آمد سیلاب طوفان صداۓ آب ہے
- 235 آمد خط سے ہوا ہے سرد جو بازار دوست
- 236 آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے
- 237 آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے
- 238 آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تک
- 239 آبرو کیا خاک اس گل کی کہ گلشن میں نہیں
- 240 آ کہ مری جان کو قرار نہیں ہے