محسن بھوپالی

شاعر

تعارف شاعری

تعارف

محسن بھوپالی اردو ادب کے اُن معتبر اور ہمہ جہت شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے کلاسیکی روایت کو عصری حسّاسیت کے ساتھ ہم آہنگ کیا۔ ان کا اصل نام عبدالرّحمٰن تھا اور وہ 29 ستمبر 1932ء کو سہاگپور (قریب بھوپال) میں پیدا ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد انہوں نے ہجرت کر کے پاکستان میں سکونت اختیار کی اور بالآخر کراچی کو اپنا مستقل مسکن بنایا۔ پیشے کے اعتبار سے وہ سول انجینئر تھے اور سندھ حکومت کے محکمۂ تعمیرات سے طویل عرصے تک وابستہ رہے، تاہم شاعری ان کی اصل شناخت اور تخلیقی اظہار کا بنیادی وسیلہ بنی۔ انہوں نے باقاعدہ شاعری کا آغاز کم عمری میں کیا اور جلد ہی غزل کے میدان میں اپنی ایک الگ پہچان قائم کر لی۔

محسن بھوپالی کی شاعری فکری گہرائی، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کی آئینہ دار ہے۔ انہوں نے غزل کے ساتھ ساتھ نظم میں بھی نمایاں کام کیا اور اردو ادب کو “نظمانے” جیسی نئی صنف سے روشناس کرایا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جاپانی صنفِ سخن ہائیکو کو اردو میں متعارف کرانے اور فروغ دینے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ ان کے شعری مجموعات میں انسانی احساسات، سماجی ناہمواریوں، ہجرت کے کرب، وقت کی بے ثباتی اور شہری زندگی کے مسائل بھرپور انداز میں منعکس ہوتے ہیں۔ ان کا ایک مشہور شعر “تمہیں آسائشِ منزل مبارک، ہمیں گردِ مسافت ہی بہت ہے” ان کے فکری رجحان اور داخلی کرب کی خوبصورت ترجمانی کرتا ہے۔

ادبی خدمات کے ساتھ ساتھ محسن بھوپالی ایک حساس اور باخبر شہری بھی تھے، جنہوں نے اپنے دور کے سیاسی اور معاشرتی حالات پر جرات مندانہ اظہار کیا، خصوصاً کراچی کے حالات پر ان کا “شہرِ آشوب” ایک اہم دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔ زندگی کے آخری برسوں میں شدید بیماری کے باوجود ان کا تخلیقی وقار اور ادبی اثر قائم رہا۔ وہ 17 جنوری 2007ء کو کراچی میں وفات پا گئے، مگر اپنی شاعری، فکری جدت اور تخلیقی تنوع کے باعث آج بھی اردو ادب میں ایک معتبر اور زندہ حوالہ سمجھے جاتے ہیں۔