جو مسکراتے ہوئے غم چھپانا جانتا ہے
وہ زندگی کو حسیں تر بنانا جانتا ہے
یہ مصلحت کا تقاضا ہے اس لیے چپ ہیں
نہ جانیں آپ ہمیں توزمانہ جانتا ہے
صدا کسی بھی طرح ہو اسیر ناممکن
پرند جال میں چہچہانا جانتا ہے
جسے سلیقہ محبت کی گفتگو کا ہے
شقی دلو میں بھی وہ گھر بنانا جانتا ہے
جفا شعار سے محسن کوئی یہ جا کے کہے
جو عشق کرتا ہے وہ غم بھی کھانا جانتا ہے
محسن بھوپالی