محسن نقوی

شاعر

تعارف شاعری

خواب بکھرے ہیں سہانے کیا کیا

خواب بکھرے ہیں سہانے کیا کیا
لٹ گئے اپنے خزانے کیا کیا
صرف ایک ترکِ تعلّق کے لئے
تو نے ڈھونڈے ہیں بہانے کیا کیا
مُڑ کے دیکھا ہی تھا ماضی کی طرف
آ ملے یار پرانے کیا کیا
آج دیکھی ہے جو تصویر تیری
یاد آیا ہے نجانے کیا کیا
شکریہ اے غم ِاحباب کی رات
ہم پہ گزرے ہیں زمانے کیا کیا
کس سے کہئيے کہ تیری چاہت میں
ہم نے سوچے تھے فسانے کیا کیا
رات صحرا کی ردا پر محسن
حرف لکھے تھے ہوا نے کیا کیا

محسن نقوی