محسن زیدی

شاعر

تعارف شاعری

اک میں ہی سرنگوں تو نہ پسپائیوں میں تھا

اک میں ہی سرنگوں تو نہ پسپائیوں میں تھا
وہ مہرِنیم روز بھی پرچھائیوں میں تھا
اوپر جمی ہوئی تھیں تہیں رسمیات کی
پانی تعلقات کا گہرائیوں میں تھا
یہ کس کے سوگ میں تھے کھلے سر چھتوں پہ لوگ
ماتم یہ کس کی موت کا انگنائیوں میں تھا
وہ سنگ باریوں سے بچاتا بھی کیا مجھے
غیروں کیساتھ وہ بھی تماشائیوں میں تھا
جتنی ہی تیز جھوٹ کے ہونٹ پہ تھی مٹھاس
اتنا ہی تلخ زہر بھی سچائیوں میں تھا
اس دشت میں تھا اندھا کنواں ہی مِرا نصیب
کچھ فرق دشمنوں نہ سگے بھائیوں میں تھا
وہ لاکھ ابھر کے بھی تو رہا دوسروں کا عکس
میں ڈوب کر بھی اپنی ہی پرچھائیوں میں تھا
پنہاں تھی غم کی لہر سی موجِ نشاط میں
ہلکا سا سوزِ درد بھی شہنائیوں میں تھا
پھر بھی نہ جانے ہو گیا دشمن زمانہ کیوں
میں تو برائیوں میں نہ اچھائیوں میں تھا
محسن وہ زہر پھیل گیا سطح پر بھی اب
کل تک جو صرف ذہن کی گہرائیوں میں تھا

محسن زیدی