میرے قلم نے نہ باطل کا تذکرہ لکھا
مآل کچھ بھی ہو حرفِ حق سدا لکھا
وہ اک فریب تھا سجدہ جسے کہا اس نے
وہ ایک عرضِ غرض تھی جسے دعا لکھا
عجب ہے اسکی سیاست لکھا جبیں پہ کبھی
کبھی مٹا کے وہی نام زیرِ پا لکھا
پڑھا تو ایک ہی انداز سے پڑھا لیکن
اسے لکھا تو سبھی نے جدا جدا لکھا
دِلوں کے باب میں حرفِ جفا لکھا ہوتا
وہ ایک حرفِ غلط تھا جسے وفا لکھا
وہ حرف حرف تو محسن ہے میری ہی تحریر
مٹاؤں کیسے خود اپنے ہی ہاتھ کا لکھا
محسن زیدی