پہلے فلک سے فرش پہ پھینکا گیا مجھے
پھر مجھ سے روشناس کرایا گیا مجھے
میری صدا پہ کب مجھے آواز دی گئی
اک اجنبی صدا پہ پکارا گیا مجھے
میں گر چکا تھا اپنے ہی اوج نگاہ سے
دنیا کی جب نگاہ میں لایا گیا مجھے
لپٹی ہوئی کتاب تھا اک گرد پوش میں
لیکن ورق ورق کوئی پھیلا گیا مجھے
محسنؔ میں خوش تھا سوچ کے آئینہ گر ہوں میں
آئینہ جب تلک نہ دکھایا گیا مجھے
محسن زیدی