رہنے دو اک دو گھڑی دیوار و در کے سامنے
ایک مدت بعد آیا ہوں میں گھر کے سامنے
تم کو دعویٰ ہے کہ تم پتھر ہو میں کہتا ہوں موم
فیصلہ ہو جائے گا آؤ شرر کے سامنے
ایک قاتل جو مشابہ میری ہی صورت سے تھا
قتل مجھ کو کر گیا میری نظر کے سامنے
اب سر منظر سمندر ہے لہو کا اور میں
ہٹ گیا کوئی عقب میں مجھ کو کر کے سامنے
آسماں سطح زمیں سے اب نظر آتا نہیں
سر سے بھی اونچی ہے اک دیوار سر کے سامنے
پی رہا ہوں شام سے اپنی شکستوں کا لہو
یاس رکھتی جا رہی ہے جام بھر کے سامنے
میں نے دیکھا آئنے کو عکس میں چھپتے ہوئے
یہ تماشا بھی ہوا میری نظر کے سامنے
نقطۂ آغاز پر ہر بار لوٹ آتا ہوں میں
راستہ ہی ختم ہے ہر رہ گزر کے سامنے
بہہ گئے محسنؔ تن آور پیڑ بھی سیلاب میں
چند تنکوں کی حقیقت کیا شجر کے سامنے
محسن زیدی