مومن خان مومن

شاعر

تعارف شاعری

تعارف

مومن خان مومن اردو کے کلاسیکی عہد کے اُن ممتاز شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے غزل کو نیا ذوق، نئی لطافت اور گہری جذباتی معنویت عطا کی۔ ان کا اصل نام مومن خان تھا اور وہ تقریباً 1800ء میں دہلی کے ایک معزز اور علمی خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد اور اجداد شاہی دربار سے وابستہ نامور اطبا تھے، جس کے باعث مومن کو بچپن ہی سے علم و فضل کا ماحول میسر آیا۔ انہوں نے عربی، فارسی اور اردو کے ساتھ ساتھ طب، نجوم، ریاضیات اور دیگر علوم میں بھی مہارت حاصل کی، جو ان کی ہمہ گیر ذہانت اور وسعتِ علم کا واضح ثبوت ہے۔

مومن خان مومن بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں اور اردو غزل کی تاریخ میں ان کا مقام نہایت مستحکم اور نمایاں ہے۔ ان کی شاعری عشق، محبت، ہجر، وصال اور انسانی جذبات کی لطیف کیفیات کی آئینہ دار ہے۔ مومن کے ہاں زبان کی سادگی، بیان کی شائستگی اور احساس کی گہرائی ایک ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔ ان کے اشعار میں داخلی جذبات کا ایسا سچا اور موثر اظہار ملتا ہے کہ پڑھنے والا بے ساختہ متاثر ہو جاتا ہے۔ ان کا مشہور شعر تم میرے پاس ہوتے ہو گویا جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا اردو شاعری کے یادگار اشعار میں شمار ہوتا ہے اور خود مرزا غالب جیسے عظیم شاعر نے بھی اس کی بے حد تحسین کی ہے۔

مومن خان مومن نے اپنے عہد میں نہ صرف ادبی حلقوں میں شہرت حاصل کی بلکہ ایک قابلِ احترام حکیم اور عالم کی حیثیت سے بھی جانے گئے۔ ان کا ادبی سرمایہ زیادہ تر ان کے دیوان میں محفوظ ہے، جو آج بھی اردو ادب کے طالب علموں اور شائقین کے لیے نہایت اہم ہے۔ 1852ء میں دہلی میں ان کا انتقال ہوا، مگر ان کی شاعری آج بھی زندہ ہے اور اردو غزل کی روایت میں حسنِ بیان، سوز و گداز اور فکری لطافت کی ایک روشن مثال سمجھی جاتی ہے۔