کلامِ شاعر
- 01 کیوں زرد ہے رنگ کس لیے آنسو لال
- 02 ہم جان فدا کرتے ، گر وعدہ وفا ہوتا
- 03 مار ہی ڈال مجھے چشمِ ادا سے پہلے
- 04 دکھاتے آئينہ ہو اور مجھ ميں جان نہيں
- 05 ہر غنچہ لب سے عشق کا اظہار ہے غلط
- 06 ميں نے تم کو دل ديا، تم نے مجھے رسوا کيا
- 07 نہ کٹتي ہم سے شب جدائي کي
- 08 وصل کي شب شام سے ميں سو گيا
- 09 لگے خدنگ جب اس نالۂ سحر کا سا
- 10 ہوئی تاثیر آہ و زاری کی
- 11 جوں نکہت گل جنبش ہے جی کا نکل جانا
- 12 ہم رنگ لاغری سے ہوں گل کی شمیم کا
- 13 تا نہ پڑے خلل کہیں آپ کے خواب ناز میں
- 14 سودا تھا بلائے جوش پر رات
- 15 وعدے کی جو ساعت دم کشتن ہے ہمارا
- 16 ہو نہ بیتاب ادا تمہاری آج
- 17 نہ انتظار میں یاں آنکھ ایک آن لگی
- 18 راز نہاں زبان اغیار تک نہ پہنچا
- 19 شوخ کہتا ہے بے حیا جانا
- 20 جو تیرے منہ سے نہ ہو شرمسار آئینہ
- 21 امتحاں کے لیے جفا کب تک
- 22 وعدۂ وصلت سے دل ہو شاد کیا
- 23 شب تم جو بزم غیر میں آنکھیں چرا گئے
- 24 اعجاز جاں دہی ہے ہمارے کلام کو
- 25 دیکھ لو شوق نا تمام مرا
- 26 اس وسعت کلام سے جی تنگ آ گیا
- 27 دیدۂ حیراں نے تماشا کیا
- 28 آگ اشک گرم کو لگے جی کیا ہی جل گیا
- 29 میں اگر آپ سے جاؤں تو قرار آ جائے
- 30 جلتا ہوں ہجر شاہد و یاد شراب میں
- 31 گر غیر کے گھر سے نہ دل آرام نکلتا
- 32 چل پرے ہٹ مجھے نہ دکھلا منہ
- 33 دل میں اس شوخ کے جو راہ نہ کی
- 34 غصہ بیگانہ وار ہونا تھا
- 35 اے آرزوئے قتل ذرا دل کو تھامنا
- 36 صبر وحشت اثر نہ ہو جائے
- 37 ہے دل میں غبار اس کے گھر اپنا نہ کریں گے
- 38 یہ عذر امتحان جذب دل کیسا نکل آیا
- 39 ہم سمجھتے ہیں آزمانے کو
- 40 الٹے وہ شکوے کرتے ہیں اور کس ادا کے ساتھ
- 41 تھی وصل میں بھی فکر جدائی تمام شب
- 42 اگر غفلت سے باز آیا جفا کی
- 43 عدم میں رہتے تو شاد رہتے اسے بھی فکر ستم نہ ہوتا
- 44 مومنؔ خدا کے واسطے ایسا مکاں نہ چھوڑ
- 45 دل قابل محبت جاناں نہیں رہا
- 46 تم بھی رہنے لگے خفا صاحب
- 47 کرتا ہے قتل عام وہ اغیار کے لیے
- 48 ڈر تو مجھے کس کا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
- 49 وہ کہاں ساتھ سلاتے ہیں مجھے
- 50 غیروں پہ کھل نہ جائے کہیں راز دیکھنا
- 51 دل بستگی سی ہے کسی زلف دوتا کے ساتھ
- 52 محشر میں پاس کیوں دم فریاد آ گیا
- 53 قہر ہے موت ہے قضا ہے عشق
- 54 ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہم
- 55 دفن جب خاک میں ہم سوختہ ساماں ہوں گے
- 56 رویا کریں گے آپ بھی پہروں اسی طرح
- 57 آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھو
- 58 اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا
- 59 وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
- 60 وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو