search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
مومن خان مومن
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
کیوں زرد ہے رنگ کس لیے آنسو لال
ہم جان فدا کرتے ، گر وعدہ وفا ہوتا
مار ہی ڈال مجھے چشمِ ادا سے پہلے
دکھاتے آئينہ ہو اور مجھ ميں جان نہيں
ہر غنچہ لب سے عشق کا اظہار ہے غلط
ميں نے تم کو دل ديا، تم نے مجھے رسوا کيا
نہ کٹتي ہم سے شب جدائي کي
وصل کي شب شام سے ميں سو گيا
لگے خدنگ جب اس نالۂ سحر کا سا
ہوئی تاثیر آہ و زاری کی
جوں نکہت گل جنبش ہے جی کا نکل جانا
ہم رنگ لاغری سے ہوں گل کی شمیم کا
تا نہ پڑے خلل کہیں آپ کے خواب ناز میں
سودا تھا بلائے جوش پر رات
وعدے کی جو ساعت دم کشتن ہے ہمارا
ہو نہ بیتاب ادا تمہاری آج
نہ انتظار میں یاں آنکھ ایک آن لگی
راز نہاں زبان اغیار تک نہ پہنچا
شوخ کہتا ہے بے حیا جانا
جو تیرے منہ سے نہ ہو شرمسار آئینہ
امتحاں کے لیے جفا کب تک
وعدۂ وصلت سے دل ہو شاد کیا
شب تم جو بزم غیر میں آنکھیں چرا گئے
اعجاز جاں دہی ہے ہمارے کلام کو
دیکھ لو شوق نا تمام مرا
اس وسعت کلام سے جی تنگ آ گیا
دیدۂ حیراں نے تماشا کیا
آگ اشک گرم کو لگے جی کیا ہی جل گیا
میں اگر آپ سے جاؤں تو قرار آ جائے
جلتا ہوں ہجر شاہد و یاد شراب میں
گر غیر کے گھر سے نہ دل آرام نکلتا
چل پرے ہٹ مجھے نہ دکھلا منہ
دل میں اس شوخ کے جو راہ نہ کی
غصہ بیگانہ وار ہونا تھا
اے آرزوئے قتل ذرا دل کو تھامنا
صبر وحشت اثر نہ ہو جائے
ہے دل میں غبار اس کے گھر اپنا نہ کریں گے
یہ عذر امتحان جذب دل کیسا نکل آیا
ہم سمجھتے ہیں آزمانے کو
الٹے وہ شکوے کرتے ہیں اور کس ادا کے ساتھ
تھی وصل میں بھی فکر جدائی تمام شب
اگر غفلت سے باز آیا جفا کی
عدم میں رہتے تو شاد رہتے اسے بھی فکر ستم نہ ہوتا
مومنؔ خدا کے واسطے ایسا مکاں نہ چھوڑ
دل قابل محبت جاناں نہیں رہا
تم بھی رہنے لگے خفا صاحب
کرتا ہے قتل عام وہ اغیار کے لیے
ڈر تو مجھے کس کا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
وہ کہاں ساتھ سلاتے ہیں مجھے
غیروں پہ کھل نہ جائے کہیں راز دیکھنا
دل بستگی سی ہے کسی زلف دوتا کے ساتھ
محشر میں پاس کیوں دم فریاد آ گیا
قہر ہے موت ہے قضا ہے عشق
ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہم
دفن جب خاک میں ہم سوختہ ساماں ہوں گے
رویا کریں گے آپ بھی پہروں اسی طرح
آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھو
اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو