لے چلا پھر مجھے دل یار دل آزار کے پاس
اب کے چھوڑ آؤں گا ظالم کو ستم گار کے پاس
میں تو ہر ہر خم گیسو کی تلاشی لوں گا
کہ مرا دل ہے ترے گیسوئے خم دار کے پاس
تو تو احسان جتاتی ہوئی آتی ہے صبا
یوں بھی آتا ہے کوئی مرغ گرفتار کے پاس
مبارک عظیم آبادی
Le chala phir mujhe dil yaar-e-dil-aazar ke paas
Ab ke chhorh aaunga zalim ko sitamgar ke paas
Main to har har kham-e-gesu ki talashi loonga
Ke mera dil hai tere gesu-e-khamdar ke paas
Tu to ehsaan jatati hui aati hai saba
Yun bhi aata hai koi murgh-e-giriftar ke paas
مبارک عظیم آبادی اردو شاعری کے اُن معتبر اور باوقار ناموں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے کلاسیکی غزل کی روایت کو اپنے منفرد اسلوب کے ساتھ آگے بڑھایا۔ ان کا اصل تعلق بہار کے تاریخی شہر عظیم آباد (موجودہ پٹنہ) سے تھا، اسی نسبت سے وہ مبارک عظیم آبادی کہلائے۔ وہ29 اپریل 1896ءکو ایک علمی و ادبی ماحول میں پیدا ہوئے، جہاں زبان و ادب کی قدروں نے ان کی شخصیت...
مکمل تعارف پڑھیں