محمد رفیع سودا

شاعر

تعارف شاعری

تعارف

مرزا محمد رفیعؔ، تخلص سودا، اردو ادب کے عظیم کلاسیکی شاعر تھے، جن کی پیدائش تقریباً 1713ءمیں دہلی میں ہوئی۔ ان کا تعلق ایک معزز خاندان سے تھا جس کے آباؤ اجداد ابتدائی طور پر تجارت یا فوجی پیشے سے وابستہ تھے۔ والد مرزا محمد شفیع نے ہندوستان میں تجارت اختیار کی اور دہلی میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ ابتدائی تعلیم میں انہوں نے عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی اور فارسی میں شاعری کا آغاز کیا، تاہم بعد ازاں انہوں نے اردو شاعری کی طرف رخ کیا اور اس سلسلے میں انہیں خان آرزو، سلیمان قلی داد، اور شاہ حاتمؔ کی رہنمائی حاصل ہوئی، جس سے ان کی فکری اور ادبی تربیت مضبوط ہوئی۔

سودا کی ابتدائی اور طویل رہائش دہلی میں رہی، جہاں وہ مغلیہ دربار اور معززینِ شہر کے زیر سرپرستی شاعری کرتے رہے۔ بعد میں سیاسی اور سماجی انتشار کی وجہ سے وہ لکھنؤ منتقل ہو گئے، جہاں نواب اسداللہ خان، نواب سعداللہ خان، اور دیگر لکھنؤ کے حکمرانوں کے دربار سے وابستہ رہے۔ سودا کا پیشہ ورانہ ذریعہ معاش شاعری اور ادبی سرپرستی تھا۔ وہ قصیدہ، ہجو اور دیگر شعری اشکال کے ذریعے درباروں اور معززین سے مالی اور سماجی مراعات حاصل کرتے تھے، جس سے انہیں اردو کلاسیکی ادب میں مستحکم مقام حاصل ہوا۔

مرزا محمد رفیعؔ سودا کی ادبی خدمات میں اردو میں فارسی قصیدے کی روایت کو منتقل کرنا، عہد کے سیاسی، سماجی اور تہذیبی حالات کی بھرپور عکاسی کرنا اور قصیدہ نگاری اور ہجو میں مہارت شامل ہے۔ اسی بنا پر انہیں “قصیدے کا بادشاہ” کہا جاتا ہے۔ ان کی وفات 1781ء میں لکھنؤ میں ہوئی، جہاں وہ اپنے عہد کے اردو کلاسیکی ادب کا روشن ستارہ بن کر رخصت ہوئے۔ ان کی شاعری آج بھی قصیدے اور ہجو کے شعبے میں معیاری اور مستند حیثیت رکھتی ہے۔