محمد رفیع سودا

شاعر

تعارف شاعری

جب خیال آتا ہے اس دل میں ترے اطوار کا

جب خیال آتا ہے اس دل میں ترے اطوار کا
سر نظر آتا نہیں دھڑ پر مجھے دو چار کا
دیکھتا ہوں یار میں جس گھر میں تجھ کو جلوہ گر
مہر کو واں حکم ہے خارِسرِدیوار کا
عاشقوں کو شیخ دین و کفر سے کیا کام ہے
دل نہیں وابستہ اپنا سبحہ و زنار کا
ٹک دکھا دےاپنی اپنی ساقی چشم میگوں تو اسے
محتسب ہو جائے بندہ خانہ خمار کا
بسکہ پوچھوں ہوں میں اپنی چشم خون آلود کو
جامہ کا ہر ایک تختہ سیر ہے گلزار کا
آ خدا کے واسطے اس بانکپن سے درگزر
کل میں سودا یوں کہا دامان گہہ کر یار کا
تند ہو بولا وہ بانکا چھوڑ دامن کو مرے
راست ہوتے بھی کہیں دیکھا ہے خم کا

محمد رفیع سودا