کلامِ شاعر
- 01 ترے خط آنے سے دل کر مرے آرام کیا ہوگا
- 02 آدم کا جسم جب کہ عناصر سے مِل بنا
- 03 ہر مژہ پر ہے ترے لختِ دل اس رنجور کا
- 04 جب خیال آتا ہے اس دل میں ترے اطوار کا
- 05 یا رب کہیں سے گرمئ بازار بھیج دے
- 06 کسی کا دردِ دل پیارے تمہارا ناز کیا سمجھے
- 07 جی مرا مجھ سے یہ کہتا ہے کہ ٹل جاؤں گا
- 08 کس سے بیاں کیجئے؟ حال دلِ تباہ کا،
- 09 ہستی کو تری بس ہے میاں گل کی اشارت
- 10 صدمہ ہر چند ترے جور سے جاں پر آیا
- 11 اے آہ تری قدر اثر نے تو نہ جانی
- 12 دھوم سے سنتے ہیں اب کی سال آتی ہے بہار
- 13 بہار باغ ہو مینا ہو جام صہبا ہو
- 14 جو گل ہے یاں سو اس گل رخسار ساتھ ہے
- 15 کرتا ہوں تیرے ظلم سے ہر بار الغیاث
- 16 یوں دیکھ مرے دیدۂ پر آب کی گردش
- 17 جس دم وہ صنم سوار ہووے
- 18 برہمن بت کدے کے شیخ بیت اللہ کے صدقے
- 19 کیجئے نہ اسیری میں اگر ضبط نفس کو
- 20 مست سحر و توبہ کناں شام کا ہوں میں
- 21 لے دیدۂ تر جدھر گئے ہم
- 22 ایک ہم سے تجھے نہیں اخلاص
- 23 کہتے ہیں لوگ یار کا ابرو پھڑک گیا
- 24 تجھ بن بہت ہی کٹتی ہے اوقات بے طرح
- 25 بے چین جو رکھتی ہے تمہیں چاہ کسو کی
- 26 دل لے کے ہمارا جو کوئی طالب جاں ہے
- 27 باطل ہے ہم سے دعویٰ شاعر کو ہم سری کا
- 28 مگر وہ دید کو آیا تھا باغ میں گل کے
- 29 دیکھوں ہوں یوں میں اس ستم ایجاد کی طرف
- 30 تجھ عشق کے مریض کی تدبیر شرط ہے
- 31 ناصح کو جیب سینے سے فرصت کبھو نہ ہو
- 32 غنچے سے مسکرا کے اسے زار کر چلے
- 33 بارہا دل کو میں سمجھا کے کہا کیا کیا کچھ
- 34 دامن صبا نہ چھو سکے جس شہ سوار کا
- 35 کب دل شکست گاں سے کر عرض حال آیا
- 36 بے وجہ نئیں ہے آئنہ ہر بار دیکھنا
- 37 دیکھے بلبل جو یار کی صورت
- 38 دل دار اس کو خواہ دل آزار کچھ کہو
- 39 تجھ قید سے دل ہو کر آزاد بہت رویا
- 40 دل میں ترے جو کوئی گھر کر گیا
- 41 آرام پھر کہاں ہے جو ہو دل میں جائے حرص
- 42 گر تجھ میں ہے وفا تو جفاکار کون ہے
- 43 اپنے کا ہے گناہ بیگانے نے کیا کیا
- 44 جب نظر اس کی آن پڑتی ہے
- 45 چہرے پہ نہ یہ نقاب دیکھا
- 46 اے دیدہ خانماں تو ہمارا ڈبو سکا
- 47 مقدور نہیں اس کی تجلی کے بیاں کا
- 48 گر کیجئے انصاف تو کی زور وفا میں
- 49 نسیم ہے ترے کوچے میں اور صبا بھی ہے
- 50 بلبل نے جسے جا کے گلستان میں دیکھا
- 51 دل مت ٹپک نظر سے کہ پایا نہ جائے گا
- 52 ہندو ہیں بت پرست مسلماں خدا پرست
- 53 عاشق کی بھی کٹتی ہیں کیا خوب طرح راتیں
- 54 ہر سنگ میں شرار ہے تیرے ظہور کا
- 55 گدا دست اہل کرم دیکھتے ہیں
- 56 جو گزری مجھ پہ مت اس سے کہو ہوا سو ہوا
- 57 وے صورتیں الٰہی کس ملک بستیاں ہیں
- 58 گل پھینکے ہے اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی
- 59 جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے