search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
محمد رفیع سودا
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
ترے خط آنے سے دل کر مرے آرام کیا ہوگا
آدم کا جسم جب کہ عناصر سے مِل بنا
ہر مژہ پر ہے ترے لختِ دل اس رنجور کا
جب خیال آتا ہے اس دل میں ترے اطوار کا
یا رب کہیں سے گرمئ بازار بھیج دے
کسی کا دردِ دل پیارے تمہارا ناز کیا سمجھے
جی مرا مجھ سے یہ کہتا ہے کہ ٹل جاؤں گا
کس سے بیاں کیجئے؟ حال دلِ تباہ کا،
ہستی کو تری بس ہے میاں گل کی اشارت
صدمہ ہر چند ترے جور سے جاں پر آیا
اے آہ تری قدر اثر نے تو نہ جانی
دھوم سے سنتے ہیں اب کی سال آتی ہے بہار
بہار باغ ہو مینا ہو جام صہبا ہو
جو گل ہے یاں سو اس گل رخسار ساتھ ہے
کرتا ہوں تیرے ظلم سے ہر بار الغیاث
یوں دیکھ مرے دیدۂ پر آب کی گردش
جس دم وہ صنم سوار ہووے
برہمن بت کدے کے شیخ بیت اللہ کے صدقے
کیجئے نہ اسیری میں اگر ضبط نفس کو
مست سحر و توبہ کناں شام کا ہوں میں
لے دیدۂ تر جدھر گئے ہم
ایک ہم سے تجھے نہیں اخلاص
کہتے ہیں لوگ یار کا ابرو پھڑک گیا
تجھ بن بہت ہی کٹتی ہے اوقات بے طرح
بے چین جو رکھتی ہے تمہیں چاہ کسو کی
دل لے کے ہمارا جو کوئی طالب جاں ہے
باطل ہے ہم سے دعویٰ شاعر کو ہم سری کا
مگر وہ دید کو آیا تھا باغ میں گل کے
دیکھوں ہوں یوں میں اس ستم ایجاد کی طرف
تجھ عشق کے مریض کی تدبیر شرط ہے
ناصح کو جیب سینے سے فرصت کبھو نہ ہو
غنچے سے مسکرا کے اسے زار کر چلے
بارہا دل کو میں سمجھا کے کہا کیا کیا کچھ
دامن صبا نہ چھو سکے جس شہ سوار کا
کب دل شکست گاں سے کر عرض حال آیا
بے وجہ نئیں ہے آئنہ ہر بار دیکھنا
دیکھے بلبل جو یار کی صورت
دل دار اس کو خواہ دل آزار کچھ کہو
تجھ قید سے دل ہو کر آزاد بہت رویا
دل میں ترے جو کوئی گھر کر گیا
آرام پھر کہاں ہے جو ہو دل میں جائے حرص
گر تجھ میں ہے وفا تو جفاکار کون ہے
اپنے کا ہے گناہ بیگانے نے کیا کیا
جب نظر اس کی آن پڑتی ہے
چہرے پہ نہ یہ نقاب دیکھا
اے دیدہ خانماں تو ہمارا ڈبو سکا
مقدور نہیں اس کی تجلی کے بیاں کا
گر کیجئے انصاف تو کی زور وفا میں
نسیم ہے ترے کوچے میں اور صبا بھی ہے
بلبل نے جسے جا کے گلستان میں دیکھا
دل مت ٹپک نظر سے کہ پایا نہ جائے گا
ہندو ہیں بت پرست مسلماں خدا پرست
عاشق کی بھی کٹتی ہیں کیا خوب طرح راتیں
ہر سنگ میں شرار ہے تیرے ظہور کا
گدا دست اہل کرم دیکھتے ہیں
جو گزری مجھ پہ مت اس سے کہو ہوا سو ہوا
وے صورتیں الٰہی کس ملک بستیاں ہیں
گل پھینکے ہے اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی
جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے