مظفر وارثی — شاعر کی تصویر

ہم کریں بات دلیلوں سے تو رد ہوتی ہے — مظفر وارثی

شاعر

تعارف شاعری

ہم کریں بات دلیلوں سے تو رد ہوتی ہے

ہم کریں بات دلیلوں سے تو رد ہوتی ہے
اس کے ہونٹوں کی خموشی بھی سند ہوتی ہے
سانس لیتے ہوئے انساں بھی ہیں لاشوں کی طرح
اب دھڑکتے ہوئے دل کی بھی لحد ہوتی ہے
جس کی گردن میں ہے پھندا وہی انسان بڑا
سولیوں سے یہاں پیمائش قد ہوتی ہے
شعبدہ گر بھی پہنتے ہیں خطیبوں کا لباس
بولتا جہل ہے بد نام خرد ہوتی ہے
کچھ نہ کہنے سے بھی چھن جاتا ہے اعجاز سخن
ظلم سہنے سے بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے

Hum karein baat daleelon se to radd hoti hai

Hum karein baat daleelon se to radd hoti hai
Uski honton ki khamoshi bhi sanad hoti hai
Saans lete hue insaan bhi hain lashon ki tarah
Ab dhadakte hue dil ki bhi lahad hoti hai
Jis ki gardan mein hai phanda wohi insaan bada
Sooliyon se yahan paimaish-e-qad hoti hai
Shobda gar bhi pehente hain khateebon ka libas
Bolta jehl hai badnaam khirad hoti hai
Kuch na kehne se bhi chhin jata hai ejaz-e-sukhan
Zulm sehne se bhi zaalim ki madad hoti hai

شاعر کے بارے میں

مظفر وارثی

مظفر وارثی اردو ادب کے اُن خوش نصیب شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہیں اپنے عہد میں بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا اور جن کا کلام آج بھی عقیدت اور احترام...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام