مظفر وارثی

شاعر

تعارف شاعری

جھوم لے ہنس بول لے پیاری اگر ہے زندگی

جھوم لے ہنس بول لے پیاری اگر ہے زندگی
سانس کے بس ایک جھونکے کا سفر ہے زندگی
دیر ہی بنتے بگڑتے کچھ اسے لگتی نہیں
پھول کی دیوار پر شبنم کا گھر ہے زندگی
زندگی میں جو بھی کرنا چاہتا ہے کر گزر
کیا خبر برسوں کی ہے یا لمحہ بھر ہے زندگی
اجنبی حالات سے بھی ہنس کے ملنا چاہئے
ہر قدم پر مڑنے والی رہ گزر ہے زندگی
بھیجتا رہتا ہوں جانے اپنی سانسیں کس کے نام
یار نا معلوم کی اک نامہ بر ہے زندگی
دشت میں نکلو تو کانٹا ہے تھکن ہے گرد ہے
ناؤ میں بیٹھو تو لگتا ہے بھنور ہے زندگی
تا ابد اس سے نہ ٹوٹے گا مظفرؔ رابطہ
موت سے آگے عدم کے نام پر ہے زندگی

مظفر وارثی