کلامِ شاعر
- 01 سنبھلنے کے لئے گرنا پڑا ہے
- 02 آپ محبوب خدا یا مصطفیٰ
- 03 خود مری آنکھوں سے اوجھل میری ہستی ہو گئی
- 04 اب کے برسات کی رت اور بھی بھڑکیلی ہے
- 05 ہم کیوں یہ کہیں کوئی ہمارا نہیں ہوتا
- 06 میری تصویر میں رنگ اور کسی کا تو نہیں
- 07 کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہے
- 08 کب نشاں میرا کسی کو شب ہستی میں ملا
- 09 جب اپنا قافلہ عزم و یقیں سے نکلے گا
- 10 سفر بھی دور کا ہے راہ آشنا بھی ہیں
- 11 رات گئے یوں دل کو جانے سرد ہوائیں آتی ہیں
- 12 اویسیوں میں بیٹھ جا ، بلالیوں میں بیٹھ جا
- 13 شعلہ ہوں، بھڑکنے کی گزارش نہيں کرتا
- 14 لیا جو اس کی نگاہوں نے جائزہ میرا
- 15 زخم دل اور ہرا خون تمنا سے ہوا
- 16 دیدۂ سنگ میں بینائی کہاں سے آئے
- 17 منتظر رہنا بھی کیا چاہت کا خمیازہ نہیں
- 18 مانا کہ مشت خاک سے بڑھ کر نہیں ہوں میں
- 19 تمہاری آنکھیں شرارتی ہیں
- 20 کیا بھلا مجھ کو پرکھنے کا نتیجہ نکلا
- 21 جھوم لے ہنس بول لے پیاری اگر ہے زندگی
- 22 وہ نہ آئیں تو ہوا بھی نہیں آیا کرتی
- 23 سایا کوئی میں اپنے ہی پیکر سے نکالوں
- 24 میری جدائیوں سے وہ مل کر نہیں گیا
- 25 آدمی چونک چکا ہے مگر اٹھا تو نہیں
- 26 میری سوچ مجھے کس رتبے پر لے آئی
- 27 یہ فیصلہ تو بہت غیر منصفانہ لگا
- 28 کربلا
- 29 ہم کریں بات دلیلوں سے تو رد ہوتی ہے
- 30 مُفلسِ زندگی اب نہ سمجھے کوئی
- 31 ہاتھ آنکھوں پہ رکھ لینے سے خطرہ نہیں جاتا
- 32 وہ نہ آئے تو ہوا بھی نہیں آیا کرتی
- 33 چہرے جدید جسم پرانے لگے مجھے
- 34 ہاتھ اِنصاف کے چوروں کا بھی کیا میں کاٹُوں