search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
مظفر وارثی
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
سنبھلنے کے لئے گرنا پڑا ہے
آپ محبوب خدا یا مصطفیٰ
خود مری آنکھوں سے اوجھل میری ہستی ہو گئی
اب کے برسات کی رت اور بھی بھڑکیلی ہے
ہم کیوں یہ کہیں کوئی ہمارا نہیں ہوتا
میری تصویر میں رنگ اور کسی کا تو نہیں
کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہے
کب نشاں میرا کسی کو شب ہستی میں ملا
جب اپنا قافلہ عزم و یقیں سے نکلے گا
سفر بھی دور کا ہے راہ آشنا بھی ہیں
رات گئے یوں دل کو جانے سرد ہوائیں آتی ہیں
اویسیوں میں بیٹھ جا ، بلالیوں میں بیٹھ جا
شعلہ ہوں، بھڑکنے کی گزارش نہيں کرتا
لیا جو اس کی نگاہوں نے جائزہ میرا
زخم دل اور ہرا خون تمنا سے ہوا
دیدۂ سنگ میں بینائی کہاں سے آئے
منتظر رہنا بھی کیا چاہت کا خمیازہ نہیں
مانا کہ مشت خاک سے بڑھ کر نہیں ہوں میں
تمہاری آنکھیں شرارتی ہیں
کیا بھلا مجھ کو پرکھنے کا نتیجہ نکلا
جھوم لے ہنس بول لے پیاری اگر ہے زندگی
وہ نہ آئیں تو ہوا بھی نہیں آیا کرتی
سایا کوئی میں اپنے ہی پیکر سے نکالوں
میری جدائیوں سے وہ مل کر نہیں گیا
آدمی چونک چکا ہے مگر اٹھا تو نہیں
میری سوچ مجھے کس رتبے پر لے آئی
یہ فیصلہ تو بہت غیر منصفانہ لگا
کربلا
ہم کریں بات دلیلوں سے تو رد ہوتی ہے
مُفلسِ زندگی اب نہ سمجھے کوئی
ہاتھ آنکھوں پہ رکھ لینے سے خطرہ نہیں جاتا
وہ نہ آئے تو ہوا بھی نہیں آیا کرتی
چہرے جدید جسم پرانے لگے مجھے
ہاتھ اِنصاف کے چوروں کا بھی کیا میں کاٹُوں