مضطرؔ خیرآبادی اردو ادب کے اُن ممتاز کلاسیکی شعرا میں شمار ہوتے ہیں جن کی شاعری میں مذہبی شعور، روحانی گہرائی اور خالص مشرقی تہذیب کا عکس نمایاں ہے۔ ان کا اصل نام سید محمد افتخار حسین رضوی تھا اور وہ تقریباً 1865ء میں خیرآباد، ضلع سیتا پور (اودھ) میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک نہایت علمی اور انقلابی خانوادے سے تھا؛ ان کے دادا مولانا فضلِ حق خیرآبادی برصغیر کے عظیم عالم، فلسفی اور تحریکِ آزادی 1857ء کے نمایاں رہنما تھے۔ اس علمی و فکری وراثت نے مضطرؔ کی شخصیت اور فن کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا۔
مضطرؔ خیرآبادی نے کم عمری ہی میں شاعری کا آغاز کیا اور غزل، نظم، نعت اور مذہبی شاعری میں اپنی الگ پہچان قائم کی۔ ان کے کلام میں عشقِ حقیقی، اخلاقی اقدار، روحانیت اور انسانی جذبات کی پاکیزہ ترجمانی ملتی ہے۔ ان کے شعری مجموعے نذرِ خدا اور میلادِ مصطفیٰ ﷺ ان کے مذہبی اور فکری رجحان کی واضح مثال ہیں۔ انہوں نے ادبی رسالہ کرشمۂ دلبر بھی جاری کیا، جو اس دور میں ادبی مکالمے اور تنقیدی شعور کے فروغ کا ذریعہ بنا۔ ان کی شاعری کلاسیکی روایت سے جڑی ہوئی ہونے کے باوجود فکری سنجیدگی اور سلاست کی حامل ہے
ادبی خدمات کے ساتھ ساتھ مضطرؔ خیرآبادی نے برطانوی ہندوستان میں مختلف ریاستی درباروں اور سرکاری مناصب پر بھی خدمات انجام دیں، جن میں گوالیار، رمپور اور دیگر مقامات شامل ہیں۔ 27 مارچ 1927ء کو گوالیار میں ان کا انتقال ہوا، مگر ان کا ادبی اثر آج بھی زندہ ہے۔ مضطرؔ خیرآبادی اس اعتبار سے بھی منفرد مقام رکھتے ہیں کہ ان کی ادبی روایت ان کی آئندہ نسلوں میں بھی منتقل ہوئی—ان کے فرزند جان نثار اختر اور پوتے جاوید اختر نے اردو ادب اور برصغیر کی ادبی و فلمی ثقافت میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ یوں مضطرؔ خیرآبادی اردو ادب کی ایک ایسی مضبوط کڑی ہیں جو علم، روایت اور تخلیقی تسلسل کی خوبصورت مثال پیش کرتی ہے۔