مضطر خیرآبادی

شاعر

تعارف شاعری

جو مے دل سے پئے کوئی تو پھر رخنے نہیں رہتے

جو مے دل سے پئے کوئی تو پھر رخنے نہیں رہتے
ذرا یہ صاف کر لی جائے پھر تنکے نہیں رہتے
ہمارا مے کدہ محفوظ ہے تاثیر موسم سے
یہاں شیشے بھرے جاڑوں میں بھی ٹھنڈے نہیں رہتے
شراب ناب کے پینے سے ہاں اتنا تو ہوتا ہے
پڑے رہتے ہیں جو آنکھوں پہ وہ پردے نہیں رہتے
قیام مے کدہ کے واسطے اقرار کیوں ساقی
پلائے گا تو رہ جائیں گے اور ویسے نہیں رہتے
لباس ظاہری پر مے سے بے شک داغ پڑتے ہیں
مگر پینے سے اندر قلب کے دھبے نہیں رہتے
نہیں دیتا جو مے اچھا نہ دے تیری خوشی ساقی
پیالے کچھ ہمیشہ طاق پر رکھے نہیں رہتے
چھپائے کس طرح زاہد سے راز مے کشی کوئی
یہ حضرت مے کشوں کا حال بے پوچھے نہیں رہتے
نمازوں سے تھکے زاہد تو مے خانہ میں آ جانا
یہ اٹھنے بیٹھنے کے اس جگہ جھگڑے نہیں رہتے
خدا کے دامن رحمت سے اپنا دامن عصیاں
وہ کیا ٹانکے گا جس کے آنکھ میں ڈورے نہیں رہتے

مضطر خیرآبادی