search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
مضطر خیرآبادی
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
رواں رہتا ہے کس کی موج میں دن رات تو پانی
گواہ وصل عدو سر جھکا کے دیکھ نہ لو
جو مے دل سے پئے کوئی تو پھر رخنے نہیں رہتے
مائل صحبت اغیار تو ہم ہیں تم کون
دل دادگان حسن سے پردا نہ چاہئے
پردۂ درد میں آرام بٹا کرتے ہیں
کیسے دل لگتا حرم میں دور پیمانہ نہ تھا
غرور الفت کی طرز نازش عجب کرشمے دکھا رہی ہے
ہم وفا کرتے ہیں ہم پر جور کوئی کیوں کرے
محبت باعث نا مہربانی ہوتی جاتی ہے
مخالف ہے صبائے نامہ بر کچھ اور کہتی ہے
جان یہ کہہ کے بت ہوش ربا نے لے لی
کیا کہوں حسرت دیدار نے کیا کیا کھینچا
دم آخر مصیبت کاٹ دو بہر خدا میری
میرے ارماں وہ سدھارے یوں کے یونہیں رہ گئے
محبت کر کے لاکھوں رنج جھیلے بیکلی پائی
اک نقش خیال رو بہ رو ہے
جب کہا تیر تری آنکھ نے اکثر مارا
سب شریک صدمہ و آزار کچھ یوں ہی سے ہیں
رہ کے پردے میں رخ پر نور کی باتیں نہ کر
مکتب کی عاشقی بھی تاریخ زندگی تھی
تیری رنگت بہار سے نکلی
جب کہا میں ہوں ترے عشق میں بدنام کہ تو
فصل گل بھی ترس کے کاٹی ہے
محبت کو کہتے ہو برتی بھی تھی
محبت ابتدا میں کچھ نہیں معلوم ہوتی ہے
جنوں کے جوش میں انسان رسوا ہو ہی جاتا ہے
نہ بلوایا نہ آئے روز وعدہ کر کے دن کاٹے
مرے ارمان مایوسی کے پالے پڑتے جاتے ہیں
عیش کے رنگ ملالوں سے دبے جاتے ہیں
جفا سے وفا مسترد ہو گئی
دعا سے کچھ نہ ہوا التجا سے کچھ نہ ہوا
رخ کسی کا نظر نہیں آتا
جدائی مجھ کو مارے ڈالتی ہے
ہم عمر کے ساتھ ہیں سفر میں
عمر کاٹی بتوں کی آڑوں میں
دل کا معاملہ جو سپرد نظر ہوا
اک پردہ نشیں کی آرزو ہے
زیر زمیں رہوں کہ تہہ آسماں رہوں
آتش حسن سے اک آب ہے رخساروں میں
وقت آخر یاد ہے ساقی کی مہمانی مجھے
محبت غیر سے کی ہے تو میرا مدعا لے لو
اپنے عہد وفا کو بھول گئے
اب اس سے بڑھ کے کیا ناکامیاں ہوں گی مقدر میں
دل لے کے حسینوں نے یہ دستور نکالا
اتنے اچھے ہو کہ بس توبہ بھلی
وہ قضا کے رنج میں جان دیں کہ نماز جن کی قضا ہوئی
ہجر میں ہو گیا وصال کا کیا
بیٹھے ہوئے ہیں ہم خود آنکھوں میں دھول ڈالے
یہ تم بے وقت کیسے آج آ نکلے سبب کیا ہے
چاہت کی نظر آپ سے ڈالی بھی گئی ہے
ہم نے پائی لذت دیدار لیکن دور سے
کسی کے سنگ در سے اپنی میت لے کے اٹھیں گے
جو پوچھا منہ دکھانے آپ کب چلمن سے نکلیں گے
دور کیوں جاؤں یہیں جلوہ نما بیٹھا ہے
آرزو دل میں بنائے ہوئے گھر ہے بھی تو کیا
حوصلہ امتحان سے نکلا
سہیں کب تک جفائیں بے وفائی دیکھنے والے
جب کہا میں نے کہ مر مر کے بچے ہجر میں ہم (ردیف .. ے)
انہوں نے کیا نہ کیا اور کیا نہیں کرتے
اس سے کہہ دو کہ وہ جفا نہ کرے
پوچھا کہ وجہ زندگی بولے کہ دل داری مری
کسی بت کی ادا نے مار ڈالا
آپ کیوں بیٹھے ہیں غصے میں مری جان بھرے
اس بات کا ملال نہیں ہے کہ دل گیا
وفا کیا کر نہیں سکتے ہیں وہ لیکن نہیں کرتے
انہیں لوگوں کی بدولت یہ حسیں اچھے ہیں
اسیر پنجۂ عہد شباب کر کے مجھے
تو مجھے کس کے بنانے کو مٹا بیٹھا ہے
میرے محبوب تم ہو یار تم ہو دل ربا تم ہو
اگر تم دل ہمارا لے کے پچھتائے تو رہنے دو
علاج درد دل تم سے مسیحا ہو نہیں سکتا
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں