وہم ھے اضطراب ھے مرشد
زندگی ایک خواب ھے مرشد
گر میسر نہ ہو وصال تو پھر
یہ محبت عذاب ھے مرشد
کیا میرے چیختے سوالوں کا
خامشی ہی جواب ھے مررشد
تیری آنکھیں ہیں جب تلک عریاں
یہ ادھورا حجاب ھے مرشد
کیا کسی سے گلہ کریں غم کا
اپنی قسمت خراب ھے مرشد
جس کو دریا سمجھ رھے ہو تم
یہ محبت سراب ھے مرشد
راز کھلتے گئے تو راز کھلا
آگہی بھی عذاب ھے مرشد
جس سے مجھ کو آتی ھے بوئے ندیم
یاد ایسی شراب ھے مرشد
ندیم بخاری