نصیر ترابی

شاعر

تعارف شاعری

تعارف

ِ

معروف شاعر نصیر ترابی اردو غزل کی اُس روشن روایت کے وارث تھے جس میں کلاسیکی تہذیب کی لطافت بھی ہے اور جدید انسان کی داخلی کربناک صدائیں بھی۔ 15 جون 1945ء کو متحدہ ہندوستان کے شہر حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئے اور قیامِ پاکستان کے بعد کراچی کو اپنا مسکن بنایا۔ ان کا خاندانی پس منظر علمی و ادبی تھا، اسی لیے کم عمری ہی سے زبان کی نزاکتوں اور روایت کی باریکیوں سے گہری شناسائی پیدا ہوگئی۔ ابتدائی تعلیم حیدرآباد میں حاصل کی جبکہ اعلیٰ تعلیم کراچی یونیورسٹی سے مکمل کی۔

ِ

نصیر ترابی کی شاعری میں ایک طرف محبت، ہجر اور انسانی رشتوں کی لطیف تصویریں ہیں تو دوسری طرف تہذیبی اضمحلال، اجتماعی زوال اور وقت کے بے رحم تھپیڑوں کا نوحہ بھی ملتا ہے۔ ان کی غزل ’’وہ ہم سفر تھا مگر اُس سے ہم نوائی نہ تھی‘‘ نے انہیں عوامی مقبولیت کے عروج تک پہنچایا اور آج بھی اس شعر کی گونج اردو قارئین کے دلوں میں تازہ ہے۔ انہوں نے نہ صرف غزل کو نئے امکانات دیے بلکہ اسے فکری وسعت اور تہذیبی شعور کے ساتھ نئے عہد کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا۔

ِ

زندگی کے آخری برسوں میں بھی نصیر ترابی نے ادبی محفلوں، درس و گفتگو اور نوجوان شعرا کی رہنمائی میں بھرپور حصہ لیا۔ وہ ایک سنجیدہ محقق، نفیس انسان اور گفتگو میں انتہائی شستہ اسلوب رکھنے والی شخصیت تھے۔ 10 جنوری 2021ء کو کراچی میں ان کا انتقال ہوا، مگر ان کی شاعری آج بھی دلوں کو چھوتی، فکر کو بیدار کرتی اور اردو غزل کی روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ نصیر ترابی کا نام اردو شاعری کے معتبر اور لازوال شعرا میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔