تعارف
<p>آج کل مجھ کو محبت سے وہ یوں دیکھتا ہے
<br>
جیسے یعقوب ہے اور کُرتے پہ خوں دیکھتا ہے
<br>
ماں کی تھکان ،باپ کے چھالوں کی خیر ہو
<br>
پروردگار ! پالنے والوں کی خیر ہو
<br>
چھاؤں کے ساتھ اِس نے محبت بھی ہم کو دی
<br>
پانی کے ساتھ دیں گے دعا بھی شجر کو ہم
<br>
اب آ کے اِس کے واسطے مرنے لگے ہیں لوگ
<br>
اگلے دنوں میں رزق توکل کی مار تھا
<br>
جو منتظر ہیں اُنہیں کیا خبر کہ اُن کی طرف
<br>
نہ بڑھ رہا ہوں نہ واپس پلٹ رہا ہوں میں
<br>
اک تو وہ بول بول کے سر کھا گیا مرا
<br>
پھر مسئلے کا حل بھی بتایا نہیں کوئی
<br>
ہم ہیں گندم کے لہکتے ہوۓ وہ کھیت، جنہیں
<br>
تیرے دریاؤں کی بے راہ روی مارے گی
<br>
ناز ہوتے ہیں حسیں لوگوں کے، ہم ایسوں کا کیا !
<br>
ہم اگر منہ بھی بنائیں تو برا بنتا ہے
<br>
تُو اپنی مسیحائی لئے پھرتا ہو بے چین
<br>
اور شہر میں اک شخص بھی بیمار نہ ہووے
<br>
اک بار تُو چھولے جسے، مرجھاۓ نہ وہ پھول
<br>
اک بار پڑیں تیرے جدھر پیر، اُدھر خیر !
<br>
میں تو اُس دن سے تجھے دیکھ رہا ہوں یا رب!
<br>
ماں نے جس دن سے بتایا ہے کہ تو دیکھتا ہے
<br>
ہمارے واسطے مرنے کی بات ہے کہ نہیں؟
<br>
ہمارے ہوتے تمہیں کوئی دوسرا چھو لے!
<br>
مجھ کو معلوم ہے نقصان بہت ہے لیکن
<br>
کیا بتاؤں جو مزہ یار کی تقلید میں ہے !
<br>
یہ دنیا پہنی ہوئی ہے کروڑوں لوگوں کی
<br>
جھگڑنا بنتا نہیں ایسے پیرَہَن کے لیے
<br>
مسئلہ ایسا کہ بچہ بھی جسے حل کر لے
<br>
کشمکش ایسی کہ انسان کی جاں لے جاۓ
<br>
تا دمِ مرگ نہیں بھولتی خود داری ہمیں
<br>
ہم غریبوں کا یہی پہلا سبق ہوتی ہے
<br>
اُس آنکھ سے کہو کہ اٹھے پھر مری طرف
<br>
اُس تیر سے کہو کہ دوبارہ لگے مجھے
<br>
نہ عام اتنا کہ محسوس ہی نہ ہو مرا غم
<br>
نہ خاص اتنا کہ تکیے ہی تُو بھگونے لگے
<br>
جانے کیا نقص تھا نمک داں میں؟
<br>
زخم سلگا مگر ہرا نہ ہوا !
<br>
تٙجرٙبہ ہے نہ کوئی عشق پہ تحقیق ہے دوست
<br>
اُس پہ یہ راہ گزر بال سی باریک ہے دوست
<br>
جانے کس زعم میں آج اُس سے یہ کہہ آیا ہوں
<br>
پھر سہارے نہ ملیں گے مرے شانوں جیسے
<br>
قربان، كفِ پاۓ محمدؐ پہ مری جان
<br>
وہ جس نے کِیا خاکِ شفا ،خاکِ عرب کو
<br>
اے ترک شدہ رستو! ،اِن تلخ فضاؤں سے
<br>
میں پہلے بھی گزرا ہوں ،تم نے مجھے پہچانا ؟
<br>
ابھی نہ مانے گا لیکن ہمارے بعد وہ شخص
<br>
گلی محلوں میں چیخے گا،" ہاں !محبت ہے "
<br>
یہ نقش ،نقشِ محبت ہے ،بنتا رہتا ہے
<br>
کوئی وجود کوئی رہ گزر نہ ہو، تب بھی
<br>
بیٹھیں گے روز و شب اسی کھڑکی کے سامنے
<br>
اور آتے جاتے دیکھیں گے شام و سحر کو ہم
<br>
سوچتا ہوں کہ اُنہیں کون سا فن آتا ہے
<br>
تیری جانب سے جنہیں اذنِ سخن آتا ہے
<br>
نام سنو ،"نعمان شفیق "
<br>
اور تمہیں حیرانی ہو</p>
<br>
جیسے یعقوب ہے اور کُرتے پہ خوں دیکھتا ہے
<br>
ماں کی تھکان ،باپ کے چھالوں کی خیر ہو
<br>
پروردگار ! پالنے والوں کی خیر ہو
<br>
چھاؤں کے ساتھ اِس نے محبت بھی ہم کو دی
<br>
پانی کے ساتھ دیں گے دعا بھی شجر کو ہم
<br>
اب آ کے اِس کے واسطے مرنے لگے ہیں لوگ
<br>
اگلے دنوں میں رزق توکل کی مار تھا
<br>
جو منتظر ہیں اُنہیں کیا خبر کہ اُن کی طرف
<br>
نہ بڑھ رہا ہوں نہ واپس پلٹ رہا ہوں میں
<br>
اک تو وہ بول بول کے سر کھا گیا مرا
<br>
پھر مسئلے کا حل بھی بتایا نہیں کوئی
<br>
ہم ہیں گندم کے لہکتے ہوۓ وہ کھیت، جنہیں
<br>
تیرے دریاؤں کی بے راہ روی مارے گی
<br>
ناز ہوتے ہیں حسیں لوگوں کے، ہم ایسوں کا کیا !
<br>
ہم اگر منہ بھی بنائیں تو برا بنتا ہے
<br>
تُو اپنی مسیحائی لئے پھرتا ہو بے چین
<br>
اور شہر میں اک شخص بھی بیمار نہ ہووے
<br>
اک بار تُو چھولے جسے، مرجھاۓ نہ وہ پھول
<br>
اک بار پڑیں تیرے جدھر پیر، اُدھر خیر !
<br>
میں تو اُس دن سے تجھے دیکھ رہا ہوں یا رب!
<br>
ماں نے جس دن سے بتایا ہے کہ تو دیکھتا ہے
<br>
ہمارے واسطے مرنے کی بات ہے کہ نہیں؟
<br>
ہمارے ہوتے تمہیں کوئی دوسرا چھو لے!
<br>
مجھ کو معلوم ہے نقصان بہت ہے لیکن
<br>
کیا بتاؤں جو مزہ یار کی تقلید میں ہے !
<br>
یہ دنیا پہنی ہوئی ہے کروڑوں لوگوں کی
<br>
جھگڑنا بنتا نہیں ایسے پیرَہَن کے لیے
<br>
مسئلہ ایسا کہ بچہ بھی جسے حل کر لے
<br>
کشمکش ایسی کہ انسان کی جاں لے جاۓ
<br>
تا دمِ مرگ نہیں بھولتی خود داری ہمیں
<br>
ہم غریبوں کا یہی پہلا سبق ہوتی ہے
<br>
اُس آنکھ سے کہو کہ اٹھے پھر مری طرف
<br>
اُس تیر سے کہو کہ دوبارہ لگے مجھے
<br>
نہ عام اتنا کہ محسوس ہی نہ ہو مرا غم
<br>
نہ خاص اتنا کہ تکیے ہی تُو بھگونے لگے
<br>
جانے کیا نقص تھا نمک داں میں؟
<br>
زخم سلگا مگر ہرا نہ ہوا !
<br>
تٙجرٙبہ ہے نہ کوئی عشق پہ تحقیق ہے دوست
<br>
اُس پہ یہ راہ گزر بال سی باریک ہے دوست
<br>
جانے کس زعم میں آج اُس سے یہ کہہ آیا ہوں
<br>
پھر سہارے نہ ملیں گے مرے شانوں جیسے
<br>
قربان، كفِ پاۓ محمدؐ پہ مری جان
<br>
وہ جس نے کِیا خاکِ شفا ،خاکِ عرب کو
<br>
اے ترک شدہ رستو! ،اِن تلخ فضاؤں سے
<br>
میں پہلے بھی گزرا ہوں ،تم نے مجھے پہچانا ؟
<br>
ابھی نہ مانے گا لیکن ہمارے بعد وہ شخص
<br>
گلی محلوں میں چیخے گا،" ہاں !محبت ہے "
<br>
یہ نقش ،نقشِ محبت ہے ،بنتا رہتا ہے
<br>
کوئی وجود کوئی رہ گزر نہ ہو، تب بھی
<br>
بیٹھیں گے روز و شب اسی کھڑکی کے سامنے
<br>
اور آتے جاتے دیکھیں گے شام و سحر کو ہم
<br>
سوچتا ہوں کہ اُنہیں کون سا فن آتا ہے
<br>
تیری جانب سے جنہیں اذنِ سخن آتا ہے
<br>
نام سنو ،"نعمان شفیق "
<br>
اور تمہیں حیرانی ہو</p>