سیاہی میں تو سایہ ڈوبتا ہے
کہا کس نے ستارہ ڈوبتا ہے
زمانے سے الگ اک چاند دیکھا
خیالوں میں ابھرتا ڈوبتا ہے
یہ کہہ کر خود کو سمجھاتا رہا ہوں
کہ سورج بھی تو تنہا ڈوبتا ہے
یہ سارے پھول دریا میں گرا دو
نہیں تو اب شکارا ڈوبتا ہے
چلا آتا ہے میناروں پہ پانی
ابابیلو بسیرا ڈوبتا ہے
نعمان شوق
Siyahi mein to saaya doobta hai
Kaha kis ne sitara doobta hai
Zamane se alag ik chand dekha
Khayalon mein ubharta doobta hai
Yeh keh kar khud ko samjhata raha hoon
Keh suraj bhi to tanha doobta hai
Yeh saare phool darya mein gira do
Nahin to ab shikara doobta hai
Chala aata hai meenaron pe paani
Ababeelo basera doobta hai
نعمان شوق (پیدائش: 2 جولائی 1965ء، آرا ضلع بھوجپور، بہار، بھارت) اردو کے اہم معاصر شعرا میں شمار ہوتے ہیں، جو اپنے منفرد اور مابعد جدید اسلوب کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ان کا اصل نام سید محمد نعمان ہے اور ادبی دنیا میں وہ “نعمان شوق” کے تخلص سے جانے جاتے ہیں۔ وہ تاحال بقیدِ حیات ہیں اور ان کی وفات کے حوالے سے کوئی مستند معلومات...
مکمل تعارف پڑھیں