نظم طباطبائی اردو ادب کے اُن معتبر اور نستعلیق لہجے کے حامل شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے غزل اور نظم دونوں میں کلاسیکی جمالیات کو جدید عصری حسّیت کے ساتھ ہم آہنگ کیا۔ 1854ء میں حیدرآباد دکن کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ جہاں انہیں عربی، فارسی اور اردو کی باقاعدہ تعلیم کم عمری ہی میں مل گئی۔ ان کے والد مذہبی و ادبی ذوق رکھتے تھے، اسی لیے نظم طباطبائی کے فکری تشکّل میں روایت، تہذیب اور زبان کی صحت کو بنیادی اہمیت حاصل رہی۔
ان کی شاعری میں دکن کی تہذیبی شائستگی، زبان کا چمکدار آہنگ، اور جذبات کی متانت پورے وقار سے جلوہ گر ہے۔ انہوں نے نہ صرف کلاسیکی غزل کی مہک کو برقرار رکھا بلکہ روایت کے رنگ کو نئے طرزِ اظہار سے ہم آہنگ کرکے غزل کو تازگی عطا کی۔ نظم طباطبائی کی تخلیقات میں جذبات کی تہذیب اور بیان کی پاکیزگی نمایاں ہے، جس کے باعث ان کی شاعری آج بھی قدردانوں کے دلوں میں زندہ ہے۔
نظم طباطبائی نہ صرف باوقار شاعر تھے بلکہ ایک سنجیدہ ادیب، محقق اور بااصول شخصیت بھی تھے۔ دکن کے ادبی ورثے کی حفاظت، اس کی ترویج اور زبان کی صحت کے لیے ان کی خدمات قابلِ قدر ہیں۔ 1933ء میں ان کا انتقال ہوا، مگر ان کی شعری میراث آج بھی اردو غزل کے سنجیدہ قارئین کے لیے ایک روشن حوالہ ہے۔ ان کی شخصیت اور شاعری دونوں اردو ادب کے وقار میں اضافہ کرتی ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے مثال قائم کرتی رہیں گی۔