نظم طباطبائی — شاعر کی تصویر

کیا کہیں کس سے پیار کر بیٹھے — نظم طباطبائی

شاعر

تعارف شاعری

کیا کہیں کس سے پیار کر بیٹھے

کیا کہیں کس سے پیار کر بیٹھے
اپنے دل کو فگار کر بیٹھے
صبر کی اک قبا جو باقی تھی
اس کو بھی تار تار کر بیٹھے
آج پھر ان کی آمد آمد ہے
ہم خزاں کو بہار کر بیٹھے
وائے اس بت کا وعدۂ فردا
عمر بھر انتظار کر بیٹھے
خود جو غم ہیں تو آئنہ حیراں
کس غضب کا سنگھار کر بیٹھے
ہم تہی دست تجھ کو کیا دیتے
جان تجھ پر نثار کر بیٹھے

Kya kahein kis se pyar kar baithe

Kya kahein kis se pyar kar baithe
Apne dil ko figar kar baithe
Sabr ki ek qaba jo baqi thi
Us ko bhi taar taar kar baithe
Aaj phir un ki aamad aamad hai
Hum khazan ko bahar kar baithe
Waae us but ka wa'ada-e-farda
Umar bhar intezar kar baithe
Khud jo gham hain to aaina hairan
Kis ghazab ka singhar kar baithe
Hum tahi dast tujh ko kya dete
Jaan tujh par nisar kar baithe

شاعر کے بارے میں

نظم طباطبائی

نظم طباطبائی اردو ادب کے اُن معتبر اور نستعلیق لہجے کے حامل شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے غزل اور نظم دونوں میں کلاسیکی جمالیات کو جدید عصری حسّیت کے ساتھ ہم آہنگ کیا۔ 1854ء میں حیدرآباد دکن کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ جہاں انہیں عربی، فارسی اور اردو کی باقاعدہ تعلیم کم عمری ہی میں مل گئی۔ ان کے والد مذہبی و ادبی ذوق رکھتے تھے، اسی لیے ن...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام