search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
نظم طباطبائی
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
یوں تو نہ تیرے جسم میں ہیں زینہار ہاتھ
یوں میں سیدھا گیا وحشت میں بیاباں کی طرف
یہ ہوا مآل حباب کا جو ہوا میں بھر کے ابھر گیا
یہ آہ بے اثر کیا ہو یہ نخل بے ثمر کیا ہو
اڑا کر کاگ شیشہ سے مے گلگوں نکلتی ہے
تنہا نہیں ہوں گر دل دیوانہ ساتھ ہے
سبحہ ہے زنار کیوں کیسی کہی
سنگ جفا کا غم نہیں دست طلب کا ڈر نہیں
پرسش جو ہوگی تجھ سے جلاد کیا کرے گا
پھری ہوئی مری آنکھیں ہیں تیغ زن کی طرف
ندامت ہے بنا کر اس چمن میں آشیاں مجھ کو
مجھ کو سمجھو یادگار رفتگان لکھنؤ
کیا کہیں کس سے پیار کر بیٹھے
کیا کاروان ہستی گزرا روا روی میں
کوئی مے دے یا نہ دے ہم رند بے پروا ہیں آپ
کسی سے بس کہ امید کشود کار نہیں
کس لیے پھرتے ہیں یہ شمس و قمر دونوں ساتھ
جنوں کے ولولے جب گھٹ گئے دل میں نہاں ہو کر
اس واسطے عدم کی منزل کو ڈھونڈتے ہیں
اس مہینہ بھر کہاں تھا ساقیا اچھی طرح
ہنسی میں وہ بات میں نے کہہ دی کہ رہ گئے آپ دنگ ہو کر
احسان لے نہ ہمت مردانہ چھوڑ کر
بدعت مسنون ہو گئی ہے
عبث ہے ناز استغنا پہ کل کی کیا خبر کیا ہو
آ کے مجھ تک کشتیٔ مے ساقیا الٹی پھری
آ گیا پھر رمضاں کیا ہوگا