کلامِ شاعر
- 01 یوں تو نہ تیرے جسم میں ہیں زینہار ہاتھ
- 02 یوں میں سیدھا گیا وحشت میں بیاباں کی طرف
- 03 یہ ہوا مآل حباب کا جو ہوا میں بھر کے ابھر گیا
- 04 یہ آہ بے اثر کیا ہو یہ نخل بے ثمر کیا ہو
- 05 اڑا کر کاگ شیشہ سے مے گلگوں نکلتی ہے
- 06 تنہا نہیں ہوں گر دل دیوانہ ساتھ ہے
- 07 سبحہ ہے زنار کیوں کیسی کہی
- 08 سنگ جفا کا غم نہیں دست طلب کا ڈر نہیں
- 09 پرسش جو ہوگی تجھ سے جلاد کیا کرے گا
- 10 پھری ہوئی مری آنکھیں ہیں تیغ زن کی طرف
- 11 ندامت ہے بنا کر اس چمن میں آشیاں مجھ کو
- 12 مجھ کو سمجھو یادگار رفتگان لکھنؤ
- 13 کیا کہیں کس سے پیار کر بیٹھے
- 14 کیا کاروان ہستی گزرا روا روی میں
- 15 کوئی مے دے یا نہ دے ہم رند بے پروا ہیں آپ
- 16 کسی سے بس کہ امید کشود کار نہیں
- 17 کس لیے پھرتے ہیں یہ شمس و قمر دونوں ساتھ
- 18 جنوں کے ولولے جب گھٹ گئے دل میں نہاں ہو کر
- 19 اس واسطے عدم کی منزل کو ڈھونڈتے ہیں
- 20 اس مہینہ بھر کہاں تھا ساقیا اچھی طرح
- 21 ہنسی میں وہ بات میں نے کہہ دی کہ رہ گئے آپ دنگ ہو کر
- 22 احسان لے نہ ہمت مردانہ چھوڑ کر
- 23 بدعت مسنون ہو گئی ہے
- 24 عبث ہے ناز استغنا پہ کل کی کیا خبر کیا ہو
- 25 آ کے مجھ تک کشتیٔ مے ساقیا الٹی پھری
- 26 آ گیا پھر رمضاں کیا ہوگا