جب بھی کسی نے خود کو صدا دی
سناٹوں میں آگ لگا دی
مٹی اس کی پانی اس کا
جیسی چاہی شکل بنا دی
چھوٹا لگتا تھا افسانہ
میں نے تیری بات بڑھا دی
جب بھی سوچا اس کا چہرہ
اپنی ہی تصویر بنا دی
تجھ کو تجھ میں ڈھونڈ کے ہم نے
دنیا تیری شان بڑھا دی
ندا فاضلی
Jab bhi kisi ne khud ko sada di
Sannaton mein aag laga di
Matti us ki paani us ka
Jaisi chaahi shakal bana di
Chhota lagta tha afsana
Main ne teri baat barha di
Jab bhi socha us ka chehra
Apni hi tasveer bana di
Tujh ko tujh mein dhund ke hum ne
Duniya teri shaan barha di
ندا فاضلی جن کا اصل نام مقتدی حسن فاضلی تھا جدید اردو شاعری کے ان نمایاں اور منفرد لہجے کے شاعر تھے جنہوں نے روزمرہ زندگی، انسان کے دکھ اور سماجی انتشار کو نہایت سادہ لیکن دل میں اتر جانے والے الفاظ میں بیان کیا۔ 12 اکتوبر 1938ء کو دہلی میں پیدا ہوئے، بعد ازاں ترقیِ ادب کے حوالے سے ممبئی ان کا مستقل شہر بنا۔ گھر کا ماحول علمی اور ادبی تھا، اسی ل...
مکمل تعارف پڑھیں