جہاں نہ تیری مہک ہو ادھر نہ جاؤں میں
مری سرشت سفر ہے گزر نہ جاؤں میں
مرے بدن میں کھلے جنگلوں کی مٹی ہے
مجھے سنبھال کے رکھنا بکھر نہ جاؤں میں
مرے مزاج میں بے معنی الجھنیں ہیں بہت
مجھے ادھر سے بلانا جدھر نہ جاؤں میں
کہیں پکار نہ لے گہری وادیوں کا سکوت
کسی مقام پہ آ کر ٹھہر نہ جاؤں میں
نہ جانے کون سے لمحہ کی بد دعا ہے یہ
قریب گھر کے رہوں اور گھر نہ جاؤں میں
ندا فاضلی