جتنی بری کہی جاتی ہے اتنی بری نہیں ہے دنیا
بچوں کے اسکول میں شاید تم سے ملی نہیں ہے دنیا
چار گھروں کے ایک محلے کے باہر بھی ہے آبادی
جیسی تمہیں دکھائی دی ہے سب کی وہی نہیں ہے دنیا
گھر میں ہی مت اسے سجاؤ ادھر ادھر بھی لے کے جاؤ
یوں لگتا ہے جیسے تم سے اب تک کھلی نہیں ہے دنیا
بھاگ رہی ہے گیند کے پیچھے جاگ رہی ہے چاند کے نیچے
شور بھرے کالے نعروں سے اب تک ڈری نہیں ہے دنیا
ندا فاضلی
Jitni buri kahi jaati hai utni buri nahin hai duniya
Bachchon ke school mein shayad tum se mili nahin hai duniya
Char gharon ke ek mohalle ke bahar bhi hai abadi
Jaisi tumhein dikhai di hai sab ki wahi nahin hai duniya
Ghar mein hi mat use sajao idhar udhar bhi le ke jao
Yoon lagta hai jaise tum se ab tak khuli nahin hai duniya
Bhaag rahi hai gend ke peeche jaag rahi hai chand ke neeche
Shor bhare kaale naaron se ab tak dari nahin hai duniya
ندا فاضلی جن کا اصل نام مقتدی حسن فاضلی تھا جدید اردو شاعری کے ان نمایاں اور منفرد لہجے کے شاعر تھے جنہوں نے روزمرہ زندگی، انسان کے دکھ اور سماجی انتشار کو نہایت سادہ لیکن دل میں اتر جانے والے الفاظ میں بیان کیا۔ 12 اکتوبر 1938ء کو دہلی میں پیدا ہوئے، بعد ازاں ترقیِ ادب کے حوالے سے ممبئی ان کا مستقل شہر بنا۔ گھر کا ماحول علمی اور ادبی تھا، اسی ل...
مکمل تعارف پڑھیں