کہیں کہیں سے ہر چہرہ تم جیسا لگتا ہے
تم کو بھول نہ پائیں گے ہم ایسا لگتا ہے
ایسا بھی اک رنگ ہے جو کرتا ہے باتیں بھی
جو بھی اس کو پہن لے وہ اپنا سا لگتا ہے
تم کو بھول نہ پائیں گے ہم
اور تو سب کچھ ٹھیک ہے لیکن
کبھی کبھی یوں ہی چلتا پھرتا شہر
اچانک تنہا لگتا ہے
تم کو بھول نہ پائیں گے ہم
اب بھی یوں ملتے ہیں ہم سے پھول چنبیلی کے
جیسے ان سے اپنا کوئی رشتہ لگتا ہے
تم کو بھول نہ پائیں گے ہم
ندا فاضلی