ندا فاضلی

شاعر

تعارف شاعری

کوئی کسی کی طرف ہے کوئی کسی کی طرف

کوئی کسی کی طرف ہے کوئی کسی کی طرف
کہاں ہے شہر میں اب کوئی زندگی کی طرف
سبھی کی نظروں میں غائب تھا جو وہ حاضر تھا
کسی نے رک کے نہیں دیکھا آدمی کی طرف
تمام شہر کی شمعیں اسی سے روشن تھیں
کبھی اجالا بہت تھا کسی گلی کی طرف
کہیں کی بھوک ہو ہر کھیت اس کا اپنا ہے
کہیں کی پیاس ہو جائے گی وہ ندی کی طرف
نہ نکلے خیر سے علامہ قول سے باہر
یگانہؔ ٹوٹ گئے جب چلے خودی کی طرف

ندا فاضلی