کوئی ہنگامہ اٹھایا جائے
بے سبب شور مچایا جائے
کس کے آنگن میں نہیں دیواریں
کس کو جنگل میں بلایا جائے
اس سے دو چار بار اور ملیں
جس کو دل سے نہ بھلایا جائے
مر گیا سانپ ندی خشک ہوئی
ریت کا ڈھیر اٹھایا جائے
ندا فاضلی
Koi hangama uthaya jaaye
Be sabab shor machaya jaaye
Kis ke aangan mein nahin deewaren
Kis ko jangal mein bulaya jaaye
Us se do chaar baar aur milen
Jis ko dil se na bhulaya jaaye
Mar gaya saap nadi khushk hui
Ret ka dher uthaya jaaye
ندا فاضلی جن کا اصل نام مقتدی حسن فاضلی تھا جدید اردو شاعری کے ان نمایاں اور منفرد لہجے کے شاعر تھے جنہوں نے روزمرہ زندگی، انسان کے دکھ اور سماجی انتشار کو نہایت سادہ لیکن دل میں اتر جانے والے الفاظ میں بیان کیا۔ 12 اکتوبر 1938ء کو دہلی میں پیدا ہوئے، بعد ازاں ترقیِ ادب کے حوالے سے ممبئی ان کا مستقل شہر بنا۔ گھر کا ماحول علمی اور ادبی تھا، اسی ل...
مکمل تعارف پڑھیں