search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
ندا فاضلی
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
آ بھی جا آ بھی جا اے صبح آ بھی جا
کبھی شام ڈھلے تو میرے دل میں آ جانا
کہیں کہیں سے ہر چہرہ تم جیسا لگتا ہے
تو اس طرح سے میری زندگی میں شامل ہے
چاہت ندیا چاہت ساگر
بات کم کیجیے ذہانت کو چھپاتے رہیے
بجھ گئے نیل گگن
جیب کٹنے کے بعد
ستمبر۱۹۶۵
پگھلتا دھواں
چوتھا آدمی
مشین
سرحد پار کا ایک خط پڑھ کر
کچی دیواریں
نیا سفر
نقابیں
مور ناچ
کھیل
ہجرت
بے خواب نیند
اتنی پی جاؤ
ایک چڑیا
پیدائش
رخصت ہوتے وقت
نیا دن
کل رات
چھوٹی سی شاپنگ
چھوٹی سی ہنسی
ایک تصویر
سلیقہ
فاتحہ
بوڑھا
فقط چند لمحے
خدا کا گھر نہیں کوئی
کھیلتا بچہ
خدا خاموش ہے
ایک کہانی
قومی یکجہتی
نیند پورے بستر میں نہیں ہوتی
نظم بہت آسان تھی پہلے
بس یونہی جیتے رہو
سچائی
فاصلہ
لفظوں کا پل
سونے سے پہلے
سنا ہے میں نے
محبت
وہ لڑکی
انتظار
اتفاق
آدمی کی تلاش
وقت سے پہلے
دیوانگی رہے باقی
والد کی وفات پر
بلا وہ ٹل گئی صدقے میں جس کے شہر چڑھے
ہر چمکتی قربت میں ایک فاصلہ دیکھوں
پھر گویا ہوئی شام پرندوں کی زبانی
وقت بنجارا صفت لمحہ بہ لمحہ اپنا
ہوئے سب کے جہاں میں ایک جب اپنا جہاں اور ہم
دعا سلام میں لپٹی ضرورتیں مانگے
ذہانتوں کو کہاں کرب سے فرار ملا
میری تیری دوریاں ہیں اب عبادت کے خلاف
کالا امبر پیلی دھرتی یا اللہ
ہر اک رستہ اندھیروں میں گھرا ہے
ٹھہرے جو کہیں آنکھ تماشا نظر آئے
جب بھی کسی نے خود کو صدا دی
نشہ نشہ کے لئے ہے عذاب میں شامل
تنہا ہوئے خراب ہوئے آئنہ ہوئے
کوئی کسی سے خوش ہو اور وہ بھی بارہا ہو یہ بات تو غلط ہے
تلاش کر نہ زمیں آسمان سے باہر
کوئی ہنگامہ اٹھایا جائے
کوئی نہیں ہے آنے والا پھر بھی کوئی آنے کو ہے
جانے والوں سے رابطہ رکھنا
کسی بھی شہر میں جاؤ کہیں قیام کرو
کوئی کسی کی طرف ہے کوئی کسی کی طرف
چاہتیں موسمی پرندے ہیں رت بدلتے ہی لوٹ جاتے ہیں
کسی سے خوش ہے کسی سے خفا خفا سا ہے
جہاں نہ تیری مہک ہو ادھر نہ جاؤں میں
تیرا سچ ہے ترے عذابوں میں
راکشس تھا نہ خدا تھا پہلے
کچے بخیے کی طرح رشتے ادھڑ جاتے ہیں
دکھ میں نیر بہا دیتے تھے سکھ میں ہنسنے لگتے تھے
آئے گا کوئی چل کے خزاں سے بہار میں
بندرابن کے کرشن کنھیا اللہ ہو
کچھ دنوں تو شہر سارا اجنبی سا ہو گیا
جو بھلا ہے اسے برا مت کر
ایک ہی دھرتی ہم سب کا گھر جتنا تیرا اتنا میرا
اٹھ کے کپڑے بدل گھر سے باہر نکل جو ہوا سو ہوا
نیل گگن میں تیر رہا ہے اجلا اجلا پورا چاند
یہ نہ پوچھو کہ واقعہ کیا ہے
یوں لگ رہا ہے جیسے کوئی آس پاس ہے
سفر کو جب بھی کسی داستان میں رکھنا
اس کو کھو دینے کا احساس تو کم باقی ہے
اچھی نہیں یہ خامشی شکوہ کرو گلہ کرو
میں اپنے اختیار میں ہوں بھی نہیں بھی ہوں
تو قریب آئے تو قربت کا یوں اظہار کروں
جانے والوں سے رابطہ رکھنا
جسے دیکھتے ہی خماری لگے
جتنی بری کہی جاتی ہے اتنی بری نہیں ہے دنیا
وہ خوش لباس بھی خوش دل بھی خوش ادا بھی ہے
آنی جانی ہر محبت ہے چلو یوں ہی سہی
چاند سے پھول سے یا میری زباں سے سنئے
دن سلیقے سے اگا رات ٹھکانے سے رہی
یقین چاند پہ سورج میں اعتبار بھی رکھ
کٹھ پتلی ہے یا جیون ہے جیتے جاؤ سوچو مت
یہ جو پھیلا ہوا زمانہ ہے
رات کے بعد نئے دن کی سحر آئے گی
مٹھی بھر لوگوں کے ہاتھوں میں لاکھوں کی تقدیریں ہیں
محبت میں وفاداری سے بچئے
گرجا میں مندروں میں اذانوں میں بٹ گیا
زمین دی ہے تو تھوڑا سا آسمان بھی دے
دیکھا ہوا سا کچھ ہے تو سوچا ہوا سا کچھ
انسان میں حیوان یہاں بھی ہے وہاں بھی
کچھ طبیعت ہی ملی تھی ایسی چین سے جینے کی صورت نہ ہوئی
نہ جانے کون سا منظر نظر میں رہتا ہے
کوئی ہندو کوئی مسلم کوئی عیسائی ہے
ہر ایک گھر میں دیا بھی جلے اناج بھی ہو
کوشش کے باوجود یہ الزام رہ گیا
گھر سے نکلے تو ہو سوچا بھی کدھر جاؤ گے
یہ کیسی کشمکش ہے زندگی میں
ہر گھڑی خود سے الجھنا ہے مقدر میرا
آج ذرا فرصت پائی تھی آج اسے پھر یاد کیا
گرج برس پیاسی دھرتی پر پھر پانی دے مولا
دو چار گام راہ کو ہموار دیکھنا
کبھی کبھی یوں بھی ہم نے اپنے جی کو بہلایا ہے
بیسن کی سوندھی روٹی پر کھٹی چٹنی جیسی ماں
جو ہو اک بار وہ ہر بار ہو ایسا نہیں ہوتا
دل میں نہ ہو جرأت تو محبت نہیں ملتی
جب سے قریب ہو کے چلے زندگی سے ہم
ہر ایک بات کو چپ چاپ کیوں سنا جائے
تنہا تنہا دکھ جھیلیں گے محفل محفل گائیں گے
نزدیکیوں میں دور کا منظر تلاش کر
منہ کی بات سنے ہر کوئی دل کے درد کو جانے کون
ہر طرف ہر جگہ بے شمار آدمی
اپنا غم لے کے کہیں اور نہ جایا جائے
کچھ بھی بچا نہ کہنے کو ہر بات ہو گئی
من بیراگی تن انوراگی قدم قدم دشواری ہے
اس کے دشمن ہیں بہت آدمی اچھا ہوگا
اب خوشی ہے نہ کوئی درد رلانے والا
نئی نئی آنکھیں ہوں تو ہر منظر اچھا لگتا ہے
دریا ہو یا پہاڑ ہو ٹکرانا چاہئے
دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھو
اپنی مرضی سے کہاں اپنے سفر کے ہم ہیں
دنیا جسے کہتے ہیں جادو کا کھلونا ہے
بے نام سا یہ درد ٹھہر کیوں نہیں جاتا
ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہے
سفر میں دھوپ تو ہوگی جو چل سکو تو چلو
کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا
یہ کیسی کشمکش ہے زندگی میں
یقین چاند پہ سورج میں اعتبار بھی رکھ
اس کو کھو دینے کا احساس تو کم باقی ہے
اس کے دشمن ہیں بہت آدمی اچھا ہوگا
تنہا تنہا دکھ جھیلیں گے محفل محفل گائیں گے
سفر میں دھوپ تو ہوگی جو چل سکو تو چلو
رات کے بعد نئے دن کی سحر آئے گی
نزدیکیوں میں دور کا منظر تلاش کر
نہ جانے کون سا منظر نظر میں رہتا ہے
مٹھی بھر لوگوں کے ہاتھوں میں لاکھوں کی تقدیریں ہیں
منہ کی بات سنے ہر کوئی دل کے درد کو جانے کون
محبت میں وفاداری سے بچئے
من بیراگی تن انوراگی قدم قدم دشواری ہے
میں اپنے اختیار میں ہوں بھی نہیں بھی ہوں
کچھ طبیعت ہی ملی تھی ایسی چین سے جینے کی صورت نہ ہوئی
کچھ بھی بچا نہ کہنے کو ہر بات ہو گئی
کوشش کے باوجود یہ الزام رہ گیا
کوئی ہندو کوئی مسلم کوئی عیسائی ہے
کٹھ پتلی ہے یا جیون ہے جیتے جاؤ سوچو مت
کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا
کبھی کبھی یوں بھی ہم نے اپنے جی کو بہلایا ہے
جو ہو اک بار وہ ہر بار ہو ایسا نہیں ہوتا
جسے دیکھتے ہی خماری لگے
جب سے قریب ہو کے چلے زندگی سے ہم
انسان میں حیوان یہاں بھی ہے وہاں بھی
ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہے
ہر طرف ہر جگہ بے شمار آدمی
ہر گھڑی خود سے الجھنا ہے مقدر میرا
ہر ایک گھر میں دیا بھی جلے اناج بھی ہو
ہر ایک بات کو چپ چاپ کیوں سنا جائے
گرجا میں مندروں میں اذانوں میں بٹ گیا
گھر سے نکلے تو ہو سوچا بھی کدھر جاؤ گے
گرج برس پیاسی دھرتی پر پھر پانی دے مولا
ایک ہی دھرتی ہم سب کا گھر جتنا تیرا اتنا میرا
دنیا جسے کہتے ہیں جادو کا کھلونا ہے
دو چار گام راہ کو ہموار دیکھنا
دن سلیقے سے اگا رات ٹھکانے سے رہی
دل میں نہ ہو جرأت تو محبت نہیں ملتی
دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھو
دیکھا ہوا سا کچھ ہے تو سوچا ہوا سا کچھ
دریا ہو یا پہاڑ ہو ٹکرانا چاہئے
بیسن کی سوندھی روٹی پر کھٹی چٹنی جیسی ماں
بے نام سا یہ درد ٹھہر کیوں نہیں جاتا
اپنی مرضی سے کہاں اپنے سفر کے ہم ہیں
اپنا غم لے کے کہیں اور نہ جایا جائے
اچھی نہیں یہ خامشی شکوہ کرو گلہ کرو
اب خوشی ہے نہ کوئی درد رلانے والا
آنی جانی ہر محبت ہے چلو یوں ہی سہی
آج ذرا فرصت پائی تھی آج اسے پھر یاد کیا
آئے گا کوئی چل کے خزاں سے بہار میں