کلامِ شاعر
- 01 آ بھی جا آ بھی جا اے صبح آ بھی جا
- 02 کبھی شام ڈھلے تو میرے دل میں آ جانا
- 03 کہیں کہیں سے ہر چہرہ تم جیسا لگتا ہے
- 04 تو اس طرح سے میری زندگی میں شامل ہے
- 05 چاہت ندیا چاہت ساگر
- 06 بات کم کیجیے ذہانت کو چھپاتے رہیے
- 07 بجھ گئے نیل گگن
- 08 جیب کٹنے کے بعد
- 09 ستمبر۱۹۶۵
- 10 پگھلتا دھواں
- 11 چوتھا آدمی
- 12 مشین
- 13 سرحد پار کا ایک خط پڑھ کر
- 14 کچی دیواریں
- 15 نیا سفر
- 16 نقابیں
- 17 مور ناچ
- 18 کھیل
- 19 ہجرت
- 20 بے خواب نیند
- 21 اتنی پی جاؤ
- 22 ایک چڑیا
- 23 پیدائش
- 24 رخصت ہوتے وقت
- 25 نیا دن
- 26 کل رات
- 27 چھوٹی سی شاپنگ
- 28 چھوٹی سی ہنسی
- 29 ایک تصویر
- 30 سلیقہ
- 31 فاتحہ
- 32 بوڑھا
- 33 فقط چند لمحے
- 34 خدا کا گھر نہیں کوئی
- 35 کھیلتا بچہ
- 36 خدا خاموش ہے
- 37 ایک کہانی
- 38 قومی یکجہتی
- 39 نیند پورے بستر میں نہیں ہوتی
- 40 نظم بہت آسان تھی پہلے
- 41 بس یونہی جیتے رہو
- 42 سچائی
- 43 فاصلہ
- 44 لفظوں کا پل
- 45 سونے سے پہلے
- 46 سنا ہے میں نے
- 47 محبت
- 48 وہ لڑکی
- 49 انتظار
- 50 اتفاق
- 51 آدمی کی تلاش
- 52 وقت سے پہلے
- 53 دیوانگی رہے باقی
- 54 والد کی وفات پر
- 55 بلا وہ ٹل گئی صدقے میں جس کے شہر چڑھے
- 56 ہر چمکتی قربت میں ایک فاصلہ دیکھوں
- 57 پھر گویا ہوئی شام پرندوں کی زبانی
- 58 وقت بنجارا صفت لمحہ بہ لمحہ اپنا
- 59 ہوئے سب کے جہاں میں ایک جب اپنا جہاں اور ہم
- 60 دعا سلام میں لپٹی ضرورتیں مانگے
- 61 ذہانتوں کو کہاں کرب سے فرار ملا
- 62 میری تیری دوریاں ہیں اب عبادت کے خلاف
- 63 کالا امبر پیلی دھرتی یا اللہ
- 64 ہر اک رستہ اندھیروں میں گھرا ہے
- 65 ٹھہرے جو کہیں آنکھ تماشا نظر آئے
- 66 جب بھی کسی نے خود کو صدا دی
- 67 نشہ نشہ کے لئے ہے عذاب میں شامل
- 68 تنہا ہوئے خراب ہوئے آئنہ ہوئے
- 69 کوئی کسی سے خوش ہو اور وہ بھی بارہا ہو یہ بات تو غلط ہے
- 70 تلاش کر نہ زمیں آسمان سے باہر
- 71 کوئی ہنگامہ اٹھایا جائے
- 72 کوئی نہیں ہے آنے والا پھر بھی کوئی آنے کو ہے
- 73 جانے والوں سے رابطہ رکھنا
- 74 کسی بھی شہر میں جاؤ کہیں قیام کرو
- 75 کوئی کسی کی طرف ہے کوئی کسی کی طرف
- 76 چاہتیں موسمی پرندے ہیں رت بدلتے ہی لوٹ جاتے ہیں
- 77 کسی سے خوش ہے کسی سے خفا خفا سا ہے
- 78 جہاں نہ تیری مہک ہو ادھر نہ جاؤں میں
- 79 تیرا سچ ہے ترے عذابوں میں
- 80 راکشس تھا نہ خدا تھا پہلے
- 81 کچے بخیے کی طرح رشتے ادھڑ جاتے ہیں
- 82 دکھ میں نیر بہا دیتے تھے سکھ میں ہنسنے لگتے تھے
- 83 آئے گا کوئی چل کے خزاں سے بہار میں
- 84 بندرابن کے کرشن کنھیا اللہ ہو
- 85 کچھ دنوں تو شہر سارا اجنبی سا ہو گیا
- 86 جو بھلا ہے اسے برا مت کر
- 87 ایک ہی دھرتی ہم سب کا گھر جتنا تیرا اتنا میرا
- 88 اٹھ کے کپڑے بدل گھر سے باہر نکل جو ہوا سو ہوا
- 89 نیل گگن میں تیر رہا ہے اجلا اجلا پورا چاند
- 90 یہ نہ پوچھو کہ واقعہ کیا ہے
- 91 یوں لگ رہا ہے جیسے کوئی آس پاس ہے
- 92 سفر کو جب بھی کسی داستان میں رکھنا
- 93 اس کو کھو دینے کا احساس تو کم باقی ہے
- 94 اچھی نہیں یہ خامشی شکوہ کرو گلہ کرو
- 95 میں اپنے اختیار میں ہوں بھی نہیں بھی ہوں
- 96 تو قریب آئے تو قربت کا یوں اظہار کروں
- 97 جانے والوں سے رابطہ رکھنا
- 98 جسے دیکھتے ہی خماری لگے
- 99 جتنی بری کہی جاتی ہے اتنی بری نہیں ہے دنیا
- 100 وہ خوش لباس بھی خوش دل بھی خوش ادا بھی ہے
- 101 آنی جانی ہر محبت ہے چلو یوں ہی سہی
- 102 چاند سے پھول سے یا میری زباں سے سنئے
- 103 دن سلیقے سے اگا رات ٹھکانے سے رہی
- 104 یقین چاند پہ سورج میں اعتبار بھی رکھ
- 105 کٹھ پتلی ہے یا جیون ہے جیتے جاؤ سوچو مت
- 106 یہ جو پھیلا ہوا زمانہ ہے
- 107 رات کے بعد نئے دن کی سحر آئے گی
- 108 مٹھی بھر لوگوں کے ہاتھوں میں لاکھوں کی تقدیریں ہیں
- 109 محبت میں وفاداری سے بچئے
- 110 گرجا میں مندروں میں اذانوں میں بٹ گیا
- 111 زمین دی ہے تو تھوڑا سا آسمان بھی دے
- 112 دیکھا ہوا سا کچھ ہے تو سوچا ہوا سا کچھ
- 113 انسان میں حیوان یہاں بھی ہے وہاں بھی
- 114 کچھ طبیعت ہی ملی تھی ایسی چین سے جینے کی صورت نہ ہوئی
- 115 نہ جانے کون سا منظر نظر میں رہتا ہے
- 116 کوئی ہندو کوئی مسلم کوئی عیسائی ہے
- 117 ہر ایک گھر میں دیا بھی جلے اناج بھی ہو
- 118 کوشش کے باوجود یہ الزام رہ گیا
- 119 گھر سے نکلے تو ہو سوچا بھی کدھر جاؤ گے
- 120 یہ کیسی کشمکش ہے زندگی میں
- 121 ہر گھڑی خود سے الجھنا ہے مقدر میرا
- 122 آج ذرا فرصت پائی تھی آج اسے پھر یاد کیا
- 123 گرج برس پیاسی دھرتی پر پھر پانی دے مولا
- 124 دو چار گام راہ کو ہموار دیکھنا
- 125 کبھی کبھی یوں بھی ہم نے اپنے جی کو بہلایا ہے
- 126 بیسن کی سوندھی روٹی پر کھٹی چٹنی جیسی ماں
- 127 جو ہو اک بار وہ ہر بار ہو ایسا نہیں ہوتا
- 128 دل میں نہ ہو جرأت تو محبت نہیں ملتی
- 129 جب سے قریب ہو کے چلے زندگی سے ہم
- 130 ہر ایک بات کو چپ چاپ کیوں سنا جائے
- 131 تنہا تنہا دکھ جھیلیں گے محفل محفل گائیں گے
- 132 نزدیکیوں میں دور کا منظر تلاش کر
- 133 منہ کی بات سنے ہر کوئی دل کے درد کو جانے کون
- 134 ہر طرف ہر جگہ بے شمار آدمی
- 135 اپنا غم لے کے کہیں اور نہ جایا جائے
- 136 کچھ بھی بچا نہ کہنے کو ہر بات ہو گئی
- 137 من بیراگی تن انوراگی قدم قدم دشواری ہے
- 138 اس کے دشمن ہیں بہت آدمی اچھا ہوگا
- 139 اب خوشی ہے نہ کوئی درد رلانے والا
- 140 نئی نئی آنکھیں ہوں تو ہر منظر اچھا لگتا ہے
- 141 دریا ہو یا پہاڑ ہو ٹکرانا چاہئے
- 142 دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھو
- 143 اپنی مرضی سے کہاں اپنے سفر کے ہم ہیں
- 144 دنیا جسے کہتے ہیں جادو کا کھلونا ہے
- 145 بے نام سا یہ درد ٹھہر کیوں نہیں جاتا
- 146 ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہے
- 147 سفر میں دھوپ تو ہوگی جو چل سکو تو چلو
- 148 کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا
- 149 یہ کیسی کشمکش ہے زندگی میں
- 150 یقین چاند پہ سورج میں اعتبار بھی رکھ
- 151 اس کو کھو دینے کا احساس تو کم باقی ہے
- 152 اس کے دشمن ہیں بہت آدمی اچھا ہوگا
- 153 تنہا تنہا دکھ جھیلیں گے محفل محفل گائیں گے
- 154 سفر میں دھوپ تو ہوگی جو چل سکو تو چلو
- 155 رات کے بعد نئے دن کی سحر آئے گی
- 156 نزدیکیوں میں دور کا منظر تلاش کر
- 157 نہ جانے کون سا منظر نظر میں رہتا ہے
- 158 مٹھی بھر لوگوں کے ہاتھوں میں لاکھوں کی تقدیریں ہیں
- 159 منہ کی بات سنے ہر کوئی دل کے درد کو جانے کون
- 160 محبت میں وفاداری سے بچئے
- 161 من بیراگی تن انوراگی قدم قدم دشواری ہے
- 162 میں اپنے اختیار میں ہوں بھی نہیں بھی ہوں
- 163 کچھ طبیعت ہی ملی تھی ایسی چین سے جینے کی صورت نہ ہوئی
- 164 کچھ بھی بچا نہ کہنے کو ہر بات ہو گئی
- 165 کوشش کے باوجود یہ الزام رہ گیا
- 166 کوئی ہندو کوئی مسلم کوئی عیسائی ہے
- 167 کٹھ پتلی ہے یا جیون ہے جیتے جاؤ سوچو مت
- 168 کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا
- 169 کبھی کبھی یوں بھی ہم نے اپنے جی کو بہلایا ہے
- 170 جو ہو اک بار وہ ہر بار ہو ایسا نہیں ہوتا
- 171 جسے دیکھتے ہی خماری لگے
- 172 جب سے قریب ہو کے چلے زندگی سے ہم
- 173 انسان میں حیوان یہاں بھی ہے وہاں بھی
- 174 ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہے
- 175 ہر طرف ہر جگہ بے شمار آدمی
- 176 ہر گھڑی خود سے الجھنا ہے مقدر میرا
- 177 ہر ایک گھر میں دیا بھی جلے اناج بھی ہو
- 178 ہر ایک بات کو چپ چاپ کیوں سنا جائے
- 179 گرجا میں مندروں میں اذانوں میں بٹ گیا
- 180 گھر سے نکلے تو ہو سوچا بھی کدھر جاؤ گے
- 181 گرج برس پیاسی دھرتی پر پھر پانی دے مولا
- 182 ایک ہی دھرتی ہم سب کا گھر جتنا تیرا اتنا میرا
- 183 دنیا جسے کہتے ہیں جادو کا کھلونا ہے
- 184 دو چار گام راہ کو ہموار دیکھنا
- 185 دن سلیقے سے اگا رات ٹھکانے سے رہی
- 186 دل میں نہ ہو جرأت تو محبت نہیں ملتی
- 187 دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھو
- 188 دیکھا ہوا سا کچھ ہے تو سوچا ہوا سا کچھ
- 189 دریا ہو یا پہاڑ ہو ٹکرانا چاہئے
- 190 بیسن کی سوندھی روٹی پر کھٹی چٹنی جیسی ماں
- 191 بے نام سا یہ درد ٹھہر کیوں نہیں جاتا
- 192 اپنی مرضی سے کہاں اپنے سفر کے ہم ہیں
- 193 اپنا غم لے کے کہیں اور نہ جایا جائے
- 194 اچھی نہیں یہ خامشی شکوہ کرو گلہ کرو
- 195 اب خوشی ہے نہ کوئی درد رلانے والا
- 196 آنی جانی ہر محبت ہے چلو یوں ہی سہی
- 197 آج ذرا فرصت پائی تھی آج اسے پھر یاد کیا
- 198 آئے گا کوئی چل کے خزاں سے بہار میں