رخصت ہوتے وقت
اس نے کچھ نہیں کہا
لیکن ایئرپورٹ پر اٹیچی کھولتے ہوئے
میں نے دیکھا
میرے کپڑے کے نیچے
اس نے
اپنے دونوں بچوں کی تصویر چھپا دی ہے
تعجب ہے
چھوٹی بہن ہو کر بھی
اس نے مجھے ماں کی طرح دعا دی ہے
ندا فاضلی
Rukhsat hote waqt
Uss ne kuchh nahiN kaha
Lekin airport par attache kholte hue
Main ne dekha
Mere kapde ke neeche
Uss ne
Apne donoN bachchoN ki tasweer chhupa di hai
Ta'ajjub hai
Chhoti behan ho kar bhi
Uss ne mujhe maaN ki tarah dua di hai
ندا فاضلی جن کا اصل نام مقتدی حسن فاضلی تھا جدید اردو شاعری کے ان نمایاں اور منفرد لہجے کے شاعر تھے جنہوں نے روزمرہ زندگی، انسان کے دکھ اور سماجی انتشار کو نہایت سادہ لیکن دل میں اتر جانے والے الفاظ میں بیان کیا۔ 12 اکتوبر 1938ء کو دہلی میں پیدا ہوئے، بعد ازاں ترقیِ ادب کے حوالے سے ممبئی ان کا مستقل شہر بنا۔ گھر کا ماحول علمی اور ادبی تھا، اسی ل...
مکمل تعارف پڑھیں