ٹھہرے جو کہیں آنکھ تماشا نظر آئے
سورج میں دھواں چاند میں صحرا نظر آئے
رفتار سے تابندہ امیدوں کے جھروکے
ٹھہروں تو ہر اک سمت اندھیرا نظر آئے
سانچوں میں ڈھلے قہقہے سوچی ہوئی باتیں
ہر شخص کے کاندھوں پہ جنازہ نظر آئے
ہر راہ گزر راستہ بھولا ہوا بالک
ہر ہاتھ میں مٹی کا کھلونا نظر آئے
کھوئی ہیں ابھی میں کے دھندلکوں میں نگاہیں
ہٹ جائے یہ دیوار تو دنیا نظر آئے
جس سے بھی ملیں جھک کے ملیں ہنس کے ہوں رخصت
اخلاق بھی اس شہر میں پیشہ نظر آئے
ندا فاضلی